50 فیصد وصولی نہ ہونیوالے علاقوں کی بجلی کاٹنے کی سفارش

December 30, 2015 3:09 pm0 commentsViews: 22

سندھ حکومت نے وفاق کو بجلی کی مد میں 60سے 70ارب روپے واجبات دینے ہیں وزیراعلیٰ سندھ کو بار بارکہہ چکے ہیں مگر تاحال ادائیگی نہیں ہوئی
بجلی کی چوری کی روک تھام کے لئے سندھ حکومت اسمارٹ میٹر لگانے نہیں دے رہی ہے، وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف
اسلام آباد( آئی این پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی نے50 فیصد سے زائد وصولیاں نہ ہونے والے علاقوں میں بجلی منقطع کر نے کی سفارش کر دی۔ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کے بجلی کی مد میں 60 سے 70 ارب روپے دینے ہیں۔ بار بار وزیر اعلیٰ سندھ کو کہنے کے باوجود وہ ہم سے بات تک کرنے کیلئے تیار نہیں۔ سندھ حکومت بجلی کی چوری کی روک تھام کیلئے اسمارٹ میٹر لگانے نہیں دے رہی ہے۔ جو پیسے دینگے صرف انہی کو بجلی دی جائے گی جبکہ وزارت پانی و بجلی اور کمیٹی ارکان کے درمیان پچاس فیصد بجلی کا بل ادا کرنے والوں کی بجلی کاٹنے پر بھی اتفاق ہوگیا۔ خواجہ آصف نے کمیٹی سے اپیل کی کہ بجلی کی مد میں حکومت سندھ سے 70 ارب روپے دلوادیں ۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئر مین ارشد لغاری کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا جس میں وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اپریل2015ء میں نندی پور بورڈ اور منیجمنٹ میں آئوٹ سورس پر اختلافات ہوگئے تھے کیونکہ منیجمنٹ کو صرف پراجیکٹ کو نصب کرنے کیلئے رکھا گیا تھا منیجمنٹ پراجیکٹ یا مشینری کو چلانے کیلئے بھی اس لئے چودہ اکتوبر کو نندی پور منیجمنٹ کو تبدیل کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایکنگ نے2007ء میں پراجیکٹ کی منظوری دی تھی اس وقت پی سی ون22.3 ارب کا تھا جو بعد میں تاخیر سے بڑھ گیا۔ پراجیکٹ پر 84 ارب نہیں بلکہ58.416 ارب روپے لاگت آئی ہے اس کی صلاحیت 525 میگا واٹ تک بڑھائی جائے گی۔