سندھ اسمبلی میں ’’ان ہائوس ‘‘تبدیلی کیلئے خفیہ رابطے ایم کیو ایم کا وزیراعلیٰ آسکتا ہے

December 30, 2015 3:13 pm0 commentsViews: 28

پیپلزپارٹی کی مخالف قوتوں نے وزیراعلیٰ سندھ کی تبدیلی کیلئے کوششیں تیز کردیں، فارورڈبلاک اہم کردار ادا کرسکتا ہے
متحدہ قومی موومنٹ، فنکشنل لیگ، پی ٹی آئی، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے فارورڈبلاک کے ارکان ایک ہوگئے تو پیپلزپارٹی کو سندھ میں اپنی حکومت بچانا مشکل ہوجائے گی، پی پی قیادت کی نیندیں اڑ گئیں
سندھ اسمبلی میں ان ہائوس تبدیلی کے لیے ایم کیو ایم نے چیف منسٹر شپ اپنے اور اپنے کارکنوں کو رہا کرانے کی شرط عائد کردی، متحدہ کے قائد الطاف حسین کی تقاریر پر عائد پابندی بھی ختم کرنے کا مطالبہ
وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار بھی ان ہائوس تبدیلی کے حق میں ہیں جبکہ وزیراعظم نے تاحال اپنے کسی ردعمل کااظہار نہیں کیا ہے، پیپلزپارٹی کی حکومت کے لیے نیا سال مشکلات لے کر آنے والا ہے
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ اسمبلی میں ان ہائوس تبدیلی کیلئے پیپلز پارٹی کی مخالف قوتوں کے خلاف خفیہ رابطوں میں تیزی آگئی ہے۔ پیپلز پارٹی کیلئے آئندہ سال مشکلات لے کر آنے والا ہے۔ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم، فنکشنل لیگ میدان میں آگئی، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا فارورڈ بلاک متحد ہوگیا تو پیپلز پارٹی کو سندھ حکومت بچانا مشکل ہوجائے گا نئی صورتحال نے پی پی قیادت کی نیندیں اڑا دیں دوسری طرف وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بھی سندھ اسمبلی میں اب پالیسی تبدیلی کے حق میں ہیں جبکہ وزیر اعظم نواز شریف نے تاحال کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے ذرائع کے مطابق سندھ اسمبلی میں ان ہائوس تبدیلی کیلئے پیپلز پارٹی کی مخالف قوتوں کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں ذرائع کے مطابق سندھ میں ان ہائوس تبدیلی کیلئے گزشتہ 15-20 روز میں سے ایک فارمولے پر کام جاری ہے کہ ہر ممکن طریقے سے کسی بھی طرح ہائوس کے اندر سے AAA تبدیلی ممکن بنائی جائے۔ ایم کیو ایم کے لیڈر نے بھی گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ سندھ میں اگلا وزیر اعلیٰ ہمارا ہی ہوگا۔ یہ بلا وجہ نہیں ایک اسٹوری دو چار ہفتوں سے تیار ہو رہی تھی کہ پی پی کی رینجرز اور نیشنل ایکشن پلان کے بارے میں انتہا پسندی کی پالیسی کے خلاف ایک واضح اسٹینڈ لیا گیا جو اب تک کھل کر واضح ہو چکی ہے کہ پی پی اس کو قبول کرنے کو تیار نہیں اور یہ صورتحال اس کیلئے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق پی پی کی سندھ اسمبلی میں خواتین کی سیٹوں سمیت کل 86، دوسرے نمبر پر متحدہ جس کی ٹوٹل سیٹیں48 مسلم لیگ فنکشنل کی10جبکہ مسلم لیگ ن کی6 جبکہ جنرل سیٹیں ملا کر پی ٹی آئی کی4 اور مسلم لیگ ق کی ایک اور پی پی ایم کی 2 سیٹیں ہیں ۔ آزاد امید وار کی ایک سیٹ ہے ۔ پیپلز پارٹی کا فارورڈ بلاک مل جائے تو سندھ میں ان ہائوس تبدیلی آسکتی ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ چونکہ ارباب رحیم پہلے بھی سندھ کے چیف منسٹر تھے اور اگر ان کو وزارت اعلیٰ دے دی جائے اور فنکشنل لیگ کے شہریار مہر مان جائیں تو باقی سینئر وزراء متحدہ سے لئے جائیں تو ان ہائوس تبدیلی بڑی آسان ہوگی۔ ٹپی صاحب اور شرجیل میمن پر اتنے زیادہ معاملات ہیں کہ شاید ان کا آنا ممکن نہ ہو۔ اس کے علاوہ3,4 پی پی ارکان ایسے بھی ہیں جن کے خلاف الیکشن کمیشن کی پٹیشن بھی دائر ہیں۔ ذرائع کے مطابق 86پی پی کی جبکہ اپوزیشن کی72بشمول متحدہ صرف14 سیٹوں کا فرق ہے۔، پی پی کے2 ایم پی ایز ملک چھوڑ کر عملاً بھاگ چکے ہیں جن میں ایک مظفر اویس ٹپی اور دوسرے شرجیل میمن ہیں۔ متحدہ کے جو ارکان باہر ہیں ان کے نظم و ضبط کے مطابق وہ دوبارہ ملک میں آجائیں گے۔ اگر پی پی کا فارورڈ بلاک گروپ جس میں سے12,10 یا14 ارکان کو توڑ دیا جائے تو عملاً متحدہ اپنے وزیر اعلیٰ کو ایوان میں لانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ میرے تجزیے کئے مطابق متحدہ کی جانب سے ڈیمانڈ آئی ہے کہ ایک تو چیف منسٹر شپ اور دوسری غالباً ایک طویل فہرست جو متحدہ کے قائد نے دی ہے کہ ان لوگوں کو رہا کیا جائے۔ تیسری چیز نئی مردم شماری کے مطابق ہماری جو نئی سیٹیں بنتی ہیں وہ دی جائیں۔ شہر یار مہر اس بارے میں بہت ورکنگ کر رہے ہیں ان کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ کی تبدیلی کے بجائے اس بات پر تیار ہیں کہ بلدیات سمیت 5,6 وزارتیں مل سکتی ہیں متحدہ کے قائد کی تحریر و تقریر پر جو پابندی ہے اس کو ختم کرنا یا جو لوگ رہا کئے جائیں گے یا مقدمات خارج ہوں گے بشمول الطاف حسین کے، اس بارے میں شہر یار مہر کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے بس میں نہیں ہے یہ وفاقی حکومت کا معاملہ ہے۔ اگر وہ چاہتی ہے کہ ان ہائوس تبدیلی لائی جائے تو وہ ان کی کچھ ڈیمانڈ مان سکتی ہے۔