سندھ میں گورنر راج یا ان ہائوس تبدیلی کا امکان نہیں،مولا بخش چانڈیو

January 1, 2016 3:10 pm0 commentsViews: 24

وفاق سے جدائی نہیں چاہتے،رینجرز اختیارات کے معاملے پر وفاق اور سندھ حکومت میں کوئی جنگ یا جھگڑا نہیں ہے
وزیر داخلہ چوہدری نثار کو کراچی میں خوش آمدید کہیں گے، مشیر اطلاعات کی کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو
کراچی(آئی این پی)وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ سندھ میں گورنر راج یا ان ہاؤس تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ وفاق سے جدائی نہیں چاہتے تاہم وفاق کا رویہ اور لہجہ بھی قابل قبول ہونا چاہیے ۔رینجرز کے اختیارات کے معاملے پر وفاق اور سندھ حکومت میں کوئی جنگ یا جھگڑا نہیں ہے ۔پیپلزپارٹی کی قیادت اور سندھ حکومت چاہتی ہے کہ رینجرز کو اختیارات حاصل ہوں اور کراچی آپریشن آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے ۔وفاقی حکومت کو سندھ حکومت کی گزارشات سننی چاہئیں ۔کڑوی گولی بعض مرتبہ اہم امراض کے علاج کا سبب بنتی ہے ۔وفاقی وزیر داخلہ پاکستان کے وزیر داخلہ ہیں ۔وہ کراچی کا دورہ کررہے ہیں ہم ان کو خوش آمد کہیں گے ۔شاید وہ ہمارے مرض کا علاج کردیں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سندھ کی ملاقات میں اہم امور پر گفتگو ہوئی ہے ۔وزیراعظم نے سندھ حکومت کے تحفظات حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔امید ہے کہ ہمارے تحفظات دور ہوں گے ۔پیپلزپارٹی توڑنے کی نہیں جوڑنے کی بات کرتی ہے۔ وفاق کو بھی صوبائی حکومتوں پر اعتبار کرنا ہوگا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی اور سیکرٹری اے ایچ خانزادہ بھی موجود تھے ۔مشیر اطلاعات کو کراچی پریس کلب کی جانب سے سندھ کا روایتی تحفہ اجرک پیش کیا گیا ۔مشیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں کراچی پریس کلب آیا ہوں ۔یہاں بڑے بڑے سیاسی کارکن آتے رہے ہیں ۔1969سے پیپلزپارٹی سے وابستہ ہوں ۔ہر دور دیکھا ہے ۔مزدور کا بیٹا ہوں ۔صحافیوں کے مسائل سے آگاہ ہوں ۔سندھ بھر کے پریس کلبس کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کروں گا ۔چاہتا ہوں کہ صحافیوں کی رہائش کے لیے ہاؤسنگ اسکیم کا مسئلہ جلد از جلد حل ہوں ۔انہوں نے کہا کہ ہم ایسے معاشرے کا قیام چاہتے ہیں کہ جہاں لوگ ایک دوسرے کو قبول کریں اور اختلافات کے باعث کسی کو قتل نہ کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ صحافی قلم سے جہاد کرتے ہیں ۔انہیں بھی خطرات کا سامنا ہوتا ہے ۔رینجرز کے اختیارات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رینجرز کا آپریشن جاری رہنا چاہیے ۔انہیں اختیارات بھی ملنے چاہئیں ۔ہم اسی پالیسی پر یقین رکھتے ہیں ۔مشکل وقت میں رینجرز نے ہمارے کہنے پر کراچی میں امن قائم کیا ۔ہم نہیں چاہتے کہ کراچی کی رونقیں دوبارہ اندھیرے کی طرف جائیں ۔دہشت گردی کی جو بھی تعریف ہو ہمارا واضح موقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن جاری رہنا چاہیے لیکن ادارے حدود میں کام کریں اور اتھارٹی کو تسلیم کیا جائے ۔اگرایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے گا تو کسی بھی کام کے نتائج بہتر انداز میں نکلتے ہیں ۔کسی بھی کام کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے ۔