سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی بڑھ گئی،تہران میں سعودی سفارتخانے کو آگ لگادی گئی

January 4, 2016 12:44 pm0 commentsViews: 34

ایرانی مذہبی رہنماکو سعودی عرب میں سزائے موت دیئے جانے کیخلاف تہران میں واقع سعودی سفارتخانے پر مشتعل افراد نے ہلہ بول دیا، پیٹرول بم بھی پھینکے گئے
پاسداران انقلاب کا شیعہ عالم دین کی موت کا بدلہ لینے کا اعلان، سعودی عرب کو انتقام کا نشانہ بننا پڑے گا، خامنہ ای
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کشیدہ، سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ دنیا بھر میں ایران، سعودی عرب کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب میں مذہبی رہنمائوں کو سزائے موت دینے پر ایران میں مشتعل افراد نے سعودی عرب کے سفار ت خانے پر حملہ کر دیا۔ مشتعل افراد نے سفارتخانے کی عمارت میں گھس کر توڑ پھوڑ کی، آگ لگانے کیلئے پیٹرول بم بھی پھینکے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ سعودی عرب نے چوبیس گھنٹوں میں ایرانی سفیر کو ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی حکام کی جانب سے گزشتہ روز2 مذہبی رہنمائوں شیخ نمر اور فارس الشویل کو سزائے موت پر عملدر آمد کے بعد ایران کے دار الحکومت تہران میں مشتعل افراد نے سعودی سفارتخانے پر حملہ کر دیا۔ ادھر سعودی عرب کی حکومت نے سرکاری سطح پر ایران کے سخت رد عمل پر ایران سے تحریری طور پر احتجاج کیا گیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق ایران کے اشتعال انگیز بیان کے جواب میں ایرانی سفیر کو طلب کرکے ان سے سخت الفاظ میں تحریری طور پر احتجاج کیا گیا ہے، ایرانی حکام کے مطابق واقعے پر اب تک40 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے شیعہ عالم موت کی سزا دینے پر سعودی شاہی خاندان سے سخت بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ممتاز شیعہ عالم کو موت کی سزا دئیے جانے پر سعودی عرب کو انتقام الٰہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔