واٹر بورڈ میں اکھاڑ پچھاڑ اور افسران کی تنزلی سے سنگین بحران

January 4, 2016 1:09 pm0 commentsViews: 19

ایم ڈی نے صورتحال کو قابو کرنے کیلئے کوششیں تیز کردی، افسران کا تنزلی کے احکامات ماننے سے انکار، بحرانی صورتحال کا ذمہ دار سندھ حکومت کو قرار دیا گیا
اعلیٰ عہدوں پر افسران کی تعیناتی حکام کیلئے سوالیہ نشان بن گئیں، 20گریڈ کے 16اہم عہدوں کا چارج صرف 4افسران کو دینے کا فیصلہ، ملازمین میںبددلی پھیل گئی، شکایات کے ازالے کیلئے کمیٹی قائم
کراچی(رپورٹ۔فرید عالم)افسران کی تنزلی کے بعدکراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سنگین انتظامی بحران میں مبتلا ہو گیا،افسران نے تنزلی قبول کر نے سے انکار کردیا، ایم ڈی واٹر بورڈ نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لئے کوششیں شروع کر دیں،واٹر بورڈ میں افسران کی بڑے پیمانے پر کی گئی اکھاڑ پچھاڑ کے بعد ادارہ فراہمی ونکاسی آب میں سنگین صورتحال پیدا ہوگئی ہے،افسران نے بحرانی صورتحال کا ذمہ دار سندھ حکومت کو قرار دیدیا،گذشتہ کئی سالوں سے ترقیوں کو کنفرم نہ کرنے پر افسران میںشدید بددلی، 20 گریڈ کے 16اہم عہدوں کا چارج صرف 4افسران سنبھالینگے، 18 گریڈکے100 کے قریب ایکسئن اور افسران16 گریڈ میں پہنچ گئے،کراچی کے چھ ڈسٹرکٹ کا ایک چیف انجینئر مقرر،چار سے زائد پروجیکٹ ڈائریکٹرز کا چارج بھی ایم ڈی واٹر بورڈ کو سنبھالنا ہوگا،ایڈ منسٹریشن،فنانس،ریونیو سمیت دیگر اعلیٰ عہدوں پر افسران کی تعیناتیاں حکام کیلئے سوالیہ نشان بن گئیں،ایس تھری،کے فور ،دھابیجی اپ گریڈیشن کے پی ڈی کے عہدے بھی خالی ہونگے،تنزلی کئے جانے والے افسران نے احتجاج کی تیاریاں کرلیں،تفصیلات کے مطابق کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں 191افسران کی تنزلی کے بعد شہر کے اہم ترین ادارہ فراہمی ونکاسی آب میں بدترین انتظامیہ بحران پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ واٹر بورڈ میں گذشتہ کئی سالوں سے ڈی پی سی نہ ہونے کے باعث افسران کی ترقیاں ممکن نہیں ہوسکیں جبکہ جن افسران کی سابق سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے دور میں ترقیاں کی گئیں ان کو سندھ حکومت کی جانب سے کنفرم نہیں کیا گیا جس کے باعث افسران میں شدید بددلی پھیلی ہوئی ہے اور ادارے کے افسران وملازمین اپنی تنزلی کو کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں اور تنزلی کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ احتجاج کرنے کی تیاریا ںکی جارہی ہیں تاہم ایم ڈی واٹر بورڈ نے معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے شکایت ازالہ کمیٹی بھی تشکیل دیدی ہے تاکہ شہر میں فراہمی ونکاسی آب کے کسی بھی ممکنہ بحران سے شہریوں کومحفوظ رکھا جاسکے،ذرائع کا کہنا ہے کہ تنزلی کے بعد واٹر بورڈ کے تقریبا تما اہم عہدے خالی ہوگئے ہیں ،واٹر بورڈ میں20گریڈ کے16 سے زائد عہدے موجود ہیں جن پر انتظامی معاملات چلانے کیلئے 18سے19گریڈ کے افسران تعینات تھے عدالتی احکامات پر افسران کی تنزلی کے بعد100سے زائد ایکسئین 16 گریڈ میں پہنچ چکے ہیں جبکہ محکمہ فنانس،محکمہ ایچ آر ڈی اے، محکمہ آر آر جی ،ڈسٹرک کے چیف انجینئرز،پروجیکٹ ڈائریکٹرز سمیت دیگر اہم عہدے جو کہ 20گریڈ کی پوسٹ ہیں ان کیلئے واٹر بورڈ میں ایم ڈی واٹر بورڈ سمیت صرف4افسران موجود ہیں موجودہ صورتحال میں کراچی کے چھ ڈسٹرکٹ کیلئے صرف ایک چیف انجینئر کو مقرر کیا گیا ہے جبکہ ایس تھری پروجیکٹ،پانی کے عظیم تر منصوبے کے فور،دھابیجی اپ گریڈیشن سمیت65ایم جی ڈی اضافی پانی کے منصوبے پر پروجیکٹ ڈائریکٹر کے عہدوں سمیت دیگر عہدے بھی ایم ڈی واٹر بور ڈ کو خود ہی سنبھالنے ہونگے۔