داعش کا سوفٹ ویئر انجینئر گرفتار پاکستانی اداروں کا نظام مفلوج کرنیکا منصوبہ ناکام

January 6, 2016 2:56 pm0 commentsViews: 30

حساس اداروں نے کراچی میں داعش کیخلاف تین مرحلوں میں آپریشن کرنے کی حکمت عملی تیار کرلی، شہر میں مختلف مذہبی اور سیاسی تنظیمیں خفیہ طور پر داعش کیلئے کام کررہی ہیں
حساس اداروں کے ہاتھوں ڈیفنس کے علاقے سے گرفتار ملزم کمپیوٹر سافٹ ویئر کے ذریعے ٹی وی چینلز کی نشریات جام کرکے داعش کا پیغام نشر کرنا چاہتا تھا، تفتیش کے دوران سرپرستی کرنے والی شخصیات کے نام بھی بتا دیے
کراچی میں داعش کی سرگرمیاں روکنے کیلئے تین مرحلوں میں آپریشن کی حکمت عملی تیار کرلی گئی، پہلے مرحلے میں انٹرنیٹ کے ذریعے داعش کا پیغام پھیلانے اور نوجوانوں کا برین واش کرنے والے گرفتارہوں گے، ذرائع
کراچی( کرائم ڈیسک) حساس ادارے نے کراچی میں کارروائی کرکے پاکستان کے اہم اداروں کو مفلوج اور ٹی وی چینلز کی نشریات کو جام کرنے کا منصوبہ ناکام بنا کر داعش سے تعلق رکھنے والے سوفٹ ویئر انجینئر کو گرفتار کرلیا، ملزم نے سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں دوسری طرف حساس اداروں نے بین الاقوامی شدت پسند تنظیم داعش کے کراچی میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو توڑنے کی حکمت عملی تیار کرلی، تین مرحلوں پر مشتمل آپریشن کو بیک وقت شروع کیا جائے گا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ حساس ادارے نے خصوصی ماہرین کے تعاون سے داعش نیت ورک میں شامل ڈیفنس سے ایک انتہائی ماہر سافٹ ویئر انجینئر کو حراست میں لے لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ زیر حراست شخص انتہائی خطرناک اور جدید سافٹ ویئر تیا رکرکے ملک بھر کے اداروں کا نظام مفلوج کرنا چاہتا تھا اور اس نے سافٹ ویئر تیا ربھی کرلیا تھا۔ کمپیوٹر سافٹ ویئر کے ذریعے نہ صرف اہم سرکاری اور عسکری اداروں کا نظام مفلوج کر دیا جاتا بلکہ اس سافٹ ویئر کے ذریعے ٹی وی چینلز کی نشریات جام کرکے داعش کا پیغام نشر کرنے کا منصوبہ بھی تیار کر لیا گیا تھا جو حساس اداروں نے بروقت کارروائی کرکے ناکام بنا دیا ذرائع کے مطابق حساس ادارے سے تفتیش کے دوران گرفتار سافٹ ویئر انجینئر نے کراچی سمیت پنجاب کے شہروں میں داعش کیلئے کام کرنے والی اہم شخصیات کے نام بھی بتا دئیے جن کی جلد گرفتاریاں متوقع ہیں۔ دوسری جانب حساس ادارے کی ایک ٹیم نے گلشن اقبال سے بھی3 افراد کو داعش سے رابطے کے الزام میں حراست میں لے لیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ داعش نیٹ ورک انتہائی تیزی سے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں لڑکیوں اور خواتین میں اپنی جگہ بنا رہا ہے اور اس کام میں مختلف مذہبی شخصیات اور سماجی تنظیمیں خفیہ طور پر داعش نیٹ ورک کے فروغ کیلئے کام کر رہی ہیں ۔ ذرائع نے بتایا کہ ایک نامور مذہبی تنظیم کے کئی افراد حساس ادارے گرفتار کر چکے ہیں جبکہ اسی کڑی کے تحت ایک درجن سے زائد خواتین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں اور طالب علموں کو بھی حراست میں لیا جا چکا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ حساس ادارے نے چند روز قبل گرفتار کئے جانے والے2 ملزمان کی نشاندہی پر گلشن اقبال، یونیورسٹی روڈ، سفاری پارک کے قریب قائم نجی یونیورسٹی پر چھاپہ مار کر3 افراد کو حراست میں لے لیا۔ ذرائع نے بتایا کہ زیر حراست افراد بین الاقوامی شدت پسند تنظیم داعش کے نیٹ ورک میں کام کر رہے تھے اور تینوں افراد یونیورسٹی کے طالب علم بھی بتائے جاتے ہیں۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ چند روز کے دوران ہونے والی گرفتاریوں میں سے چند دہشت گردوں کے انکشافات کے بعد حساس ادارے نے شہر میں نیٹ ورک کے خاتمے کیلئے3 مراحل طے کئے ہیں جس کے تحت پہلے مرحلے میں انٹر نیٹ کے ذریعے تنظیم کے مقاصد کو فروغ دینے والے افراد کے خلاف کریک ڈائون کیا جائے گا جو مختلف سماجی ویب سائٹ پر ایک دوسرے کو پیغام پہنچانے اور برین واشنگ کا کام کرتے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں بیرون ملک جانے والے افراد کے کوائف اکٹھے کئے جائیں گے جبکہ ان افراد کے کوائف بھی اکٹھے کئے جائیں گے جو کہ مارے جا چکے ہیں۔ ذرائع نے مزید کہا کہ تیسرے مرحلے میں داعش کا نیٹ ورک چلانے والے دہشت گردوں اور بھرتی سینٹروں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ مذہبی پروگرامات کی آڑ میں برین واشنگ میں ملوث دہشت گردوں کو گرفتار کیا جائے گا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ حساس ادارے نے بیرون ملک جانے اور مارے جانے والے افراد میں سے بیشتر کے کوائف حاصل بھی کر لئے ہیں۔