برطانیہ نے پاکستان سے ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتل مانگ لیے

January 9, 2016 1:08 pm0 commentsViews: 22

ملزمان میں حسن علی سید، کاشف خان، کامران، خالد شمیم، معظم علی و دیگر شامل ہیں
ڈاکٹر عمران فاروق کی بیوہ شمائلہ نے اپنے شوہر کے قتل کے حوالے سے برطانوی پولیس کو شواہد اور حلفی بیان بھی دیا
لندن( نیوز ڈیسک) برطانیہ نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے سابق رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے مبینہ قاتلوں کو اس کے حوالے کر ے۔ الزام ہے کہ محسن علی سید اور کاشف خان کامران نے قتل کی سازش کے کردار خالد شمیم، معظم علی خان اور پاکستان و برطانیہ میں کچھ بے نام ساتھیوں کی مدد سے پانچ سال قبل عمران فاروق کو ایجوئر میں قتل کیا تھا اور قتل کے چند گھنٹے بعد وہ پاکستان فرار ہوگئے تھے۔ جیو نیوز کے مطابق ڈاکٹر عمران فاروق کی بیوی شمائلہ عمران فاروق اور اس کے دو بیٹوں کو کرسمس سے قبل اسکاٹ لینڈ یارڈ نے مجسٹریٹس کورٹ میں پیش کیا تھا۔ جہاں بند کمرے میں سماعت ہوئی سماعت میں جج کے سامنے یہ ثابت کرنا تھا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے حوالے سے ایکسٹراڈائٹ ایبل آفنسس ہوا جس کی بنیاد پر مشتبہ افراد کو حوالگی کا کہا جائے تا کہ انہیں برطانیہ لا کر چارج لگایا جائے اور مقدمہ چلایا جا سکے۔ شمائلہ عمران فاروق نے اپنے شوہر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے بارے میں اپنے شواہد سے متعلق بیان سے متعلق جج کے سامنے بیان حلفی جمع کرایا۔

عمران فاروق قتل کیس، افتخار حسین محمد انور اور الطاف حسین کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے آئندہ سماعت پر تینوں ملزمان کے وارنٹ گرفتاری حاصل کرکے برطانیہ لے جانے کی تیاریاں شروع کردیں، قانونی ماہرین کی مشاورت
وارنٹ گرفتاری کے ساتھ مقدمے کا ریکارڈ بھی امریکہ بھجوایا جائے گا تاکہ ملزموں کی حوالگی کا کام شروع کیا جاسکے ،حکومتی ذرائع
اسلام آباد( نیوز ایجنسیاں) وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) نے متحدہ قومی موومنٹ کے مقتول رہنما عمران فاروق قتل کیس میں نامزد ملزمان الطاف حسین، محمد انور اور افتخار حسین کو انٹر پول کے ذریعے گرفتار کرکے پاکستان لانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ عمران فاروق قتل کیس کی آئندہ سماعت پر مقامی عدالت سے تینوں ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے جائیں گے۔ جمعہ کو ایف آئی اے ذرائع کے مطابق عمران فاروق قتل کیس کی آئندہ سماعت پر اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جج عبدالغفور کاکڑ سے تینوں کے وارنٹ گرفتاری حاصل کئے جائیں گے۔ وارنٹ گرفتاری انٹر پول کے ذریعے برطانیہ بھیجے جائیں گے وارنٹ گرفتاری کے ساتھ مقدمہ کا ریکارڈ بھجوایا جائے گا تا کہ ملزموں کی حوالگی کا کام شروع کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق تینوں ملزمان کے وارنٹ گرفتاری انٹر پول کے ذریعے برطانیہ بھیجنے سے متعلق قانونی ماہرین سے مشاورت مکمل کر لی گئی ہے اور اس کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے بھی گرین سگنل دے دیا ہے تاہم وارنٹ گرفتاری بھیجنے سے قبل وزارت داخلہ سے اجازت لی جائے گی۔ واضح رہے کہ ایف آئی اے نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے2 گرفتار ملزمان کے گزشتہ روز اقبال بیانات کے بعد مقدمے کی تفتیش تیز کر دی ہے۔

عمران فاروق کے قتل سے الطاف حسین اور میرا کوئی تعلق نہیں، محمد انور
ملزمان کی جانب سے لگایا گیا الزام جھوٹ، بے بنیاد اور حقائق کے سراسر منافی ہے
مجھے اور قائد تحریک کو اس کیس میں ملوث کرنا ایم کیو ایم کیخلاف سازشوں کا تسلسل ہے
لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک) ایم کیو ایم کے رہنما محمد انور نے عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار ملزمان کی جانب سے عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران فاروق قتل کیس سے الطاف حسین یا میرا کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں محمد انور نے عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار ملزمان کے اعترافی بیان میں عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان کی جانب سے مجھ پر لگایا گیا الزام جھوٹ، بے بنیاد اور حقائق کے سراسر منافی ہے جب کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سمیت کسی بھی ذمہ دار یا کارکن کا عمران فاروق قتل کیس سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔ انہیں اور الطاف حسین کو عمران فاروق قتل میں ملوث ہونے کی سازش کوشش ایم کیو ایم کے خلاف سازشوں کا تسلسل ہے۔

عمران فاروق قتل کا منصوبہ نائن زیرو پر بنایا گیا ، خالد شمیم
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے مجرم خالد شمیم نے اپنے اعترافی بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کا منصوبہ نائن زیرو میں بنایا گیا ایم کیو ایم کے رہنما محمد انور نے منصوبے پر عملدر آمد کیلئے لندن سے25 ہزار پائونڈ بھجوائے تھے۔ لندن پہنچنے پر اکبر نامی شخص نے مجھے چھریاں او ر لوہے کے سرئیے دئیے 16 ستمبر کو قتل کا دن مقرر کیا گیا۔