پیپلزپارٹی کے آٹھ سالہ دور میں سرکاری محکموں میں216ارب روپے کی کرپشن

January 9, 2016 1:21 pm0 commentsViews: 112

اوگرامیں مالی بے ضابطگیوں کے باعث عوام کے 23 ارب روپے ڈوب گئے، آڈٹ رپورٹ میں انکشاف
سندھ میں صرف محکمہ تعلیم میں قومی خزانے کو ایک ارب 44کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا، سب سے زیادہ مالی بے ضابطگیاں2014-15 میں کی گئیں، ورلڈبینک پروجیکٹ میں بھی لوٹ مار کی گئی
چیئرمین نیب نے کراچی بیورو کو کرپشن کے خلاف مہم مزید تیز کرنے کا حکم دے دیا،کراچی میں 2015 میں مختلف کیسز میں 172 افراد کو گرفتار کیاجاچکا ہے، 128 مقدمات کی تحقیقات مکمل کرلی گئیں
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ میں پیپلز پارٹی کے8 سالہ دور اقتدار میں تمام سرکاری محکموں میں216 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے، نجی ٹی وی کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے گزشتہ8 سالہ دور اقتدار میں سندھ کے تمام سرکاری محکموں میں مجموعی طور پر 216 ارب روپے کے غبن کے آڈٹ اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سندھ کے تمام سرکاری محکموں میں8 سال کے دوران2کھرب 16 ارب (216 ارب) روپے کی بے ضابطگیاں کی گئیں اور صرف محکمہ تعلیم میں قومی خزانے کو ایک ارب44 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2008-2009میں قومی خزانے کو 32ارب روپے کا ٹیکا لگایا گیا جب کہ مالی سال 2010-11 میں مختلف محکموں میں15 ارب روپے کی بے ضابطگیاں کی گئیں۔ مالی سال 2012-13میں58 ارب روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ مالی سال2013-14میں سندھ حکومت نے قومی خزانے کو15 ارب روپے کا ٹیکا لگایا اور سب سے زیادہ بے ضابطگیاں اور کرپشن مالی سال 2014-15 میں دیکھی گئیں جس کے دوران سرکاری محکموں میں129 ارب روپے کی کرپشن کی گئی۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ولڈ بینک کے پروجیکٹ کے نام پر سندھ کی جانب سے اربوں روپے کی بد عنوانی کی گئی جس کے باعث ورلڈ بینک نے تعلیمی اداروں اور تعلیمی صورتحال کی بہتری کیلئے شروع کئے گئے منصوبوں کو بھی بند کردیا اور ورلڈ بینک نے سندھ کو ایک ارب29 کروڑ روپے تعلیمی امداد دینے سے انکار کر دیا۔ علاوہ ازیں اوگرا میں مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے عوام کے23 ارب روپے ڈوب گئے۔ رپورٹ میں سوئی گیس کمپنی سے سالانہ فیس کی مد میں4 ارب 82 کروڑ روپے کے نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔ ایل این جی ٹرمینل میں بے ضابطگیوں پر جرمانہ 25 کروڑ روپے وصول نہ ہو سکے۔ 2012ء اور2013ء میں اوگرا میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ عدالتوں میں کیس کی پیروی نہ کرکے اوگرا نے قومی خزانے کو ساڑھے 17 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔ رپورٹ کے مطابق گیس کمپنیوں سے سالانہ فیس کی مد میں4 ارب 82 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، ایل این جی ٹرمینل میں بے ضابطگیوں پر جرمانہ کے25 کروڑ روپے بھی وصول نہ ہو سکے،۔ سی این جی اسٹیشنز سے سالانہ معائنہ فیس کی مد میں5 کروڑ 50 لاکھ روپے کا نقصان کیا گیا، جبکہ گیس کے ترسیلی نقصانات حد سے تجاوز کرنے 12 کروڑ روپے کا جرمانہ وصول نہ کیا جا سکا۔ علاوہ ازیں چیئر مین نیب قمر الزمان چوہدری نے نیب کراچی بیورو کو کرپشن کے خلاف مہم مزید تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق چیئر مین قمر الزمان چوہدری کو نیب کراچی بیورو کے دورے کے دوران ایل این جی اور ڈاکٹر عاصم حسین کیس سمیت اہم مقدمات پر بریفنگ دی گئی۔ چیئر مین نیب کو بتایا گیا کہ کراچی سے240 کیسز میں سے128 کی تحقیقات مکمل کر لی ہیں جبکہ407 انکوائریز میں سے128 انکوائریز بھی مکمل کر لی گئی ہیں نیب کراچی نے2015میں مختلف کیسز میں 172 افراد کو گرفتار کیا۔ نیب کراچی نے101 کرپشن ریفرنس دائر کئے جبکہ سال 2015ء میں18 ارب روپے بھی مختلف شخصیات سے وصول کئے۔ اس دوران سزائوں کا تناسب 63 فیصد رہا ۔ چیئر مین نیب نے کراچی بیورو کے افسران کو کرپشن کے خلاف مہم کو مزید تیز کرنے کا حکم دیا۔