PIDCچوکی کے ٹریفک پولیس اہلکاروں کا شہری پر تشدد،ابتداء شفیق نے کی فوٹیج منظر عام پر آگئی

January 12, 2016 1:50 pm0 commentsViews: 52

موٹر سائیکل پارک کرنے سے منع کرنے پر شہری نے پولیس اہلکار پر تشدد کیا ،بیچ بچائو کرانے والوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا
ٹریفک پولیس نے ہیڈ کانسٹیبل کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے شفیق کو سول لائن تھانے منتقل کردیا گیاتھا، شخصی ضمانت پر رہا
کراچی( کرائم رپورٹر) پی آئی ڈی سی ٹریفک چوکی پر پولیس تشدد کاشکار ہونیوالا شہری ہی واقع کا ذمہ دار نکلا سی سی ٹی فوٹیج منظر عام پر آگئی‘ تشدد کا نشانہ بننے والا شہری بیروزگار اور بلڈ پریشر کا مریض ہے‘ ڈی آئی جی ٹریفک ڈاکٹر امیر شیخ نے کہا کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شہری کو موٹر سائیکل پارک کرنے سے منع کرنے والے اہلکار کو شفیق نے پہلے تشدد کا نشانہ بنایاور بعد ازاں بیچ بچائو کرنے والوں کو بھی مارا جس پر ٹریفک پولیس اہلکاروں نے بھی اس کو تشدد کا نشانہ بنایا‘ ٹریفک پولیس اہلکاروں کو بردباری اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہئے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اگر ٹریفک پولیس اہلکار ذمہ دار نکلے تو ان کیخلاف کارروائی کی جائیگی‘ سول لائن کے علاقے پی آئی ڈی سی چوکی پر موٹر سائیکل پارک کرنے کے دوران ٹریفک پولیس کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور شہری شفیق کو دھمکی آمیز انداز میں موٹر سائیکل ہٹانے کا حکم دیا‘ بات تلخ کلامی سے بڑھ کر ہاتھا پائی تک پہنچ گئی معاملے کو دیکھ کر 3 مزید ٹریفک پولیس کے اہلکار موقع پرپہنچ گئے اورمعاملہ ختم کروانے کے بجائے شہری کو تشدد کا نشانہ بنانا شرو ع کردیا‘ اسی دوران رینجرز کے اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے اور معاملہ ختم کروادیا‘ واقعے کے بعد سول لائن تھانے میں پولیس نے شفیق کیخلاف مقدمہ نمبر 16/05 ٹریفک پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل امیر اصغر کی مدعیت میں درج کرکے ملزم کو باقاعدہ گرفتار کرتے ہوئے انویسٹی گیشن پولیس کے ہمراہ آرٹلری میدان تھانے منتقل کردیا‘ شفیق پر تشدد اور مقدمے کے اندراج کی اطلاع ملتے ہی اس کے اہل خانہ اور دیگر عزیز و اقارب آرٹلری میدان تھانے پہنچ گئے اور شفیق کی رہائی کا مطالبہ کیا جبکہ واقعے کا آئی جی سندھ نے نوٹس لیتے ہوئے اے آئی جی ٹریفک طاہر نورانی سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی‘ بعد ازاں میڈیا کے دبائو اور اعلیٰ حکام کی مداخلت پر انویسٹی گیشن پولیس نے شفیق کو شخصی ضمانت پر رہا کردیا گیا۔

ٹریفک پولیس کا ہتک آمیز رویہ افسوسناک ہے، شہری حلقے
پی آئی ڈی سی ٹریفک سیکشن ،شہری شفیق اور اہلکاروں میں ہاتھا پائی عدم برداشت کا مظہر ہے
اعلیٰ حکومتی شخصیات اور پولیس حکام کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا، اظہار رائے
کراچی( اسٹاف رپورٹر) پی آئی ڈی سی ٹریفک سیکشن پر پیش آنے والے واقعہ کو شہری حلقوں نے ٹریفک پولیس کے بڑھتے ہوئے ظلم و زیادتی کا رد عمل قرار دیا ہے‘ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ پی آئی ڈی سی ٹریفک پولیس چوکی پر شہری شفیق اور پولیس اہلکاروں میں ہاتھا پائی کا واقعہ جہاں ایک افسوسناک عمل ہے وہیں پر اس صورتحال کو عدم برداشت کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا‘ ٹریفک پولیس اہلکار بلا جواز پارکنگ ایریا سے بھی موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں اٹھا کر لے جاتے ہیں جس کے بعد شہری اپنی موٹر سائیکل یا گاڑی تلاش کرتا ہوا متعلقہ ٹریفک سیکشن پہنچتا ہے جہاں اسے ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جانب سے انتہائی ہتک آمیز رویے کا بھی سامنا کرنا پڑتاہے‘ ایسی گاڑیاں جو نو پارکنگ ایریا میں کھڑی کی جاتی ہیں وہاں پر گاڑیاں دھونے والوں سے ساز باز کرکے ٹریفک پولیس کی جانب سے انہیں اٹھانے سے گریز کیا جاتا ہے جس کا معاوضہ گاڑیاں دھونے والے وصول کرتے ہیں‘ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی لگژری گاڑی نو پارکنگ ایریا میں گارڈز کے ہمراہ کھڑی ہوتی ہے تو ٹریفک پولیس اہلکار اس گاڑی کو ہٹانے کی ہمت تک نہیں کرتے اور عام شہری وہاں پر گاڑی کھڑی کردے تو اس کا نہ صرف چالان کردیا جاتا ہے بلکہ اسے گاڑی بند کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اعلیٰ حکومتی شخصیات اور پولیس کے اعلیٰ افسران کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔

ٹریفک پولیس اور پرائیویٹ کنٹریکٹر غنڈہ گردی پر اتر آئے، متحدہ
شہریوں پرتشدد کے واقعات میں اضافے پر تشوش، حکام صورتحال کا نوٹس لیں
پولیس کا طرز عمل عوام میں غصہ اور بے چینی پیداکرنے کا سبب ہے، جماعت اسلامی
کراچی( اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی نے شہر میں ٹریفک پولیس اور اس کے پرائیوٹ کنٹریکٹر کی جانب سے شہریوں پر تشدد کے واقعات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ شہریوں پر تشدد کے واقعات ٹریفک پولیس اور اس کے پرائیویٹ کنٹریکٹر کی کھلی غنڈہ گردی ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ جب قانون کے رکھوالے ہی قانون کی خلاف ورزی اور تشدد کا راستہ اختیار کریں گے تو شہریوں سے قانون کی پاسداری کی توقع کیسے کی جا سکے گی۔ پولیس کا یہ طرز عمل خود عوام کے اندر غصہ اور بے چینی پیدا کرنے کا سبب ہے۔ دوسری طرف متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین سندھ اسمبلی نے کہا ہے کہ شہریوں پر تشدد کے واقعات ٹریفک پولیس اور اس کے پرائیویٹ کنٹریکٹر کی کھلی غنڈہ گردی ہے انہوں نے کہا کہ شہریوں پر تشدد کے واقعات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹریفک پولیس اہلکار اور پرائیویٹ کنٹریکٹر اپنے آپ کو قانون سے ماورا تصور کر رہے ہیں۔

میں ٹیکس ادا کرتا ہوں یہ میرے نوکر ہیں، شفیق کی تھانے میں گفتگو
کراچی( کرائم رپورٹر) پی آئی ڈی سی پل کے قریب ٹریفک پولیس اہلکاروں کا نشانہ بننے والا شفیق تھانہ سول لائن میں میڈیا کے سامنے پھٹ پڑا۔ شہری کا کہنا تھا کہ یہ میرے نوکر ہیں۔ میں ٹیکس ادا کرتا ہوں میرے ساتھ گھریلو مسائل ہیں اور یہ سڑکوں پر ہم سے ایسا رویہ اختیار کر تے ہیں کہ جیسے ہم مجرم ہوں، شہری کا کہنا تھا کہ جی سی ٹی کالج سے مکینکل ڈپلومہ ہولڈر ہوں مجھے نوکری نہیں مل رہی، یہاں سفارشیوں کو نوکریاں دی جاتی ہیں۔ یہ وردیاں پہنے میرے سامنے کھڑے بھی سفارشوں سے آئے ہیں، ہمارا کوئی پرساں حال نہیں ہے۔