پابندی کے باوجود، الطاف حسین کے بیانات نشر کرنیوالے چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

January 12, 2016 1:56 pm0 commentsViews: 32

لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے چیئرمین پیمرا سے عدالت کی حکم عدولی کرنیوالے چینلز کیخلاف کارروائی کی رپورٹ طلب کرلی
آئین کے آرٹیکل 62،63 کے تحت الطاف حسین پر غداری کا مقدمہ اور رابطہ کمیٹی کے ارکان کو بھی نا اہل قرار دینے کی استدعا
لاہور( یو پی پی) لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بیانات اور تصاویر پر میڈیا میں نشر و اشاعت پر پابندی کے حکم میں15 جنوری تک توسیع کرتے ہوئے چیئر مین پیمرا سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرنے والے چینلز کے خلاف کارروائی کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے درخواست گزار کے وکلاء کو مزید دلائل دینے کی ہدایت کر دی۔ پیر کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں قائم فل بنچ نے سردار آفتاب ایڈووکیٹ، عبداللہ ملک اور مقصود اعوان کی درخواستوں کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں کے وکیل احمد اویس ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ افواج پاکستان اور حساس اداروں کے خلاف تقاریر کرنے پر الطاف حسین کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے جبکہ رابطہ کمیٹی کے ممبران کو آئین کے آرٹیکل 63, 62 کے تحت نا اہل قرار دینے کا حکم دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم کے باوجود نجی ٹی وی چینل الطاف حسین کی تصاویر اور بیانات نشر کر رہے ہیں۔ لیکن پیمرا نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ عدالت کے طلب کرنے پر چیئر مین پیمرا ابصار عالم پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرنیوالے چینلز کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے شو کاز نوٹس جاری کئے گئے ہیں قانونی کارروائی پوری کی جائے گی۔