پانی کی پائپ لائنوں کے پھٹنے کے واقعات میں واٹر بورڈ کے افسران ملوث

January 12, 2016 2:26 pm0 commentsViews: 23

200افسران کی تنزلی سے واٹر بورڈ کا انتظامی انفرااسٹرکچر ہل کر رہ گیا، افسران کاتنزلی کے فیصلے کو قبول کرنے سے انکار
واٹر بورڈ میں بحران کے باعث فراہمی ونکاسی آب کی صورتحال ابتر،سسٹم جام ہونا شروع ،سندھ حکومت مشکل میں پڑ گئی
کراچی (سٹی رپورٹر) کراچی واٹر اینڈ سیوریج کے افسران نے سندھ حکومت کا غصہ شہریوں پر نکالنا شروع کر دیا،کراچی میں پے درپے فراہمی آب کی لائنوں کے پھٹنے اور نکاسی آب کا سسٹم جام کرنے میں ادارے کے افسران کے ملوث ہونے کا انکشاف، افسران نے تنزلی کے فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کردیا، سابقہ کامیاب حربے کو استعمال کرتے ہوئے شہر میں فراہمی و نکاسی آب کے مسائل پیدا کرنا شروع کردیئے 200 کے قریب افسران کی تنزلی سے واٹر بورڈ کا انتظامی انفرا اسٹرکچر ہل کر رہ گیا، زیر زمین لائنوں سے آگاہ افسران سندھ حکومت کو مشکل میں ڈالنے کیلئے یکجا ہوگئے۔ شہر میں فراہمی و نکاسی آب کی صورتحال مزید ابتر ہونے کا خطرہ، تفصیلات کے مطابق کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں آئوٹ آف ٹرن ترقی پانے والے افسران سمیت او پی ایس افسران کے خلاف عدالتی احکامات پر کی جانے والی بڑی کارروائی کے بعد شہر میں فراہمی و نکاسی آب کا سسٹم جام ہونا شروع ہوگیا ہے جس میں ادارے کے افسران کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، واٹر بورڈ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ادارے کے 200 کے قریب افسران و ملازمین کی تنزلی کئے جانے پر مذکورہ افسران میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور ان افسران و ملازمین نے اپنے فرائض کی ادائیگی پوری کرنے کے بجائے شہر میں فراہمی و نکاسی آب کا بحران پیدا کرنا شروع کردیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ واٹر بورڈ کے افسران کا یہ حربہ بہت پرانا اور کامیاب ہے جس کو کنٹرول کرنا کسی ایم ڈی یا سربراہ کے بس میں نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ کرپشن و بد عنوانیوں کی روک تھام کرنے یا افسران کیخلاف کارروائیوں کی صورت میں شہر میں فراہمی و نکاسی آب کے مسائل پیدا کئے جاتے رہے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں ادارے میں تکنیکی امور سے مکمل آگاہ ایم ڈی موجود ہونے کے باعث شہر میں تین چار لائنوں کے پھٹنے کے واقعات کے علاوہ کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوسکا ہے۔