کراچی میں بھی جیش محمد کیخلاف کریک ڈائون شروع

January 14, 2016 2:25 pm0 commentsViews: 29

سیکورٹی اداروں نے مولانا مسعود اظہر کو حفاظتی تحویل میں لیکر پٹھان کوٹ حملے کے بارے میں پوچھ گچھ شروع کردی، جیش محمد کے دفاتر بھی سیل کردیے گئے
حساس اداروں نے اہم کارکنوں کے گرد گھیراتنگ کرنا شروع کردیا، گلشن اقبال، ملیر ہالٹ اور گلشن حدید سے 10افراد کو حراست میں لے کرنامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا، آج سے اندرون سندھ بھی چھاپے مارے جائیں گے
وفاقی وزارت داخلہ کے احکامات کے بعد اسپیشل برانچ اور آئی بی آج سے سندھ میں کارروائیاں شروع کرے گی، فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی کڑی نگرانی شروع کردی گئی، کراچی میں مولانا مسعود اظہر کی رہائش گاہ پر بھی چھاپہ مارا گیا
کراچی( کرائم ڈیسک) حساس اداروں نے کراچی میں بھی جیش محمد کے خلاف کریک ڈائون شروع کر دیا گیا گلشن اقبال، ملیر ہالٹ اور گلشن حدید سے10 افراد کو حراست میں لے کر نا معلوم مقام پر منتقل کردیا گیا جبکہ کراچی میں مولانا مسعود اظہر کی رہائش گاہ پر بھی چھاپہ مارا گیا حساس ادارے ان کے ایک ملازم کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں ذرائع کے مطابق حساس ادارے نے پٹھان کوٹ حملہ کیس میں تحقیقات کیلئے کراچی میں بھی کالعدم جیش محمد کی نگرانی شروع کر دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں سے10 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ حساس ادارے نے کالعدم تنظیم کے تمام دفاتر اور کارکنوں کے کوائف بھی جمع کرنا شروع کر دئیے ہیں جبکہ اہم کارکنوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ادارے کی ایک ٹیم نے گلشن اقبال کے مختلف علاقوں میں کارروائی کے بعد3افراد کو حراست میں بھی لیا ہے جن سے نا معلوم مقام پر تفتیش کی جا رہی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے ملیر ہالٹ کے قریب سیکورٹی پرنٹنگ پریس کے اطراف میں مشکوک افرا دکی موجودگی کی اطلاع پر سرچ آپریشن کیا۔ اس دوران کسی بھی شخص کو علاقے میں داخل یا باہر جانے کی اجازت نہیں تھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے3 افراد کو گرفتار کرکے تفتیش کیلئے نا معلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔ دوسری طرف وفاقی وزارت داخلہ کے احکامات کے بعد سندھ حکومت نے بھی جیش محمد کے خلاف کریک ڈائون کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کراچی میں اسپیشل برانچ اور آئی بی آج سے سندھ بھر میں کارروائیاں شروع کریں گے۔ اس سلسلے میں فورتھ شیڈول کے افراد کی کڑی نگرانی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی سندھ کے تمام اضلاع میں جیش محمد کے خلاف چھاپے شروع کئے جائیں گے۔ دوسری جانب ذرائع کاکہنا ہے کہ حساس ادارے کے اہلکاروں نے کراچی میں مولانا مسعود اظہر کی رہائش گاہ پر بھی چھاپہ مارا اور مولانا مسعود اظہر کے ملازم کو حراست میں لے لیا۔ واضح رہے کہ مولانا مسعود اظہر نماز جمعہ پنجاب کالونی کی ایک مسجد میں پڑھاتے ہیں، اس کے ساتھ حساس اداروں نے جیش محمد کے کارکنان کے بینک اکائونٹس کی تفصیلات بھی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کیلئے سندھ حکومت اسٹیٹ بینک کو خط لکھے گی۔ قبل ازیں جیش محمد کے خلاف کریک ڈائون کرکے اس کے دفاتر سیل کر دئیے گئے تھے جبکہ سیکورٹی اداروں نے کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو حفاظتی تحویل میں لے کر پٹھان کوٹ حملے سے متعلق پوچھ گچھ کا آغاز کر دیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق سیکورٹی اداروں نے بہاولپور کے علاقے میں چھاپے مار کر کالعدم تنظیم کے13 افراد کو گرفتار کیا جن میں مولانا اظہر مسعود کے بھائی مفتی عبدالرحمن رئوف اور ان کے دیگر قریبی ساتھی شامل ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق مولانا مسعود اظہر کو بہاولپور کے علاقے سے تحویل میں لیا گیا ، مولانا مسعود اظہر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ آج کل بہاولپور میں موجود نہیں تھے۔ سیکورٹی اداروں نے انہیں کسی دوسرے مقام سے حفاظتی تحویل میں لینے کے بعد نا معلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔ واضح رہے کہ پٹھان کوٹ ایئر بیس حملے کے بعد بھارت کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس حملے کے پیچھے جیش محمد کا ہاتھ ہے اور مولانا مسعود اظہر مبینہ طور پر اس حملے کے ماسٹر مائنڈ ہیں، بھارت کی جانب سے15 جنوری کو سیکریٹری خارجہ کی سطح پر مذاکرات کو بھی مولانا مسعود اظہر اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری سے مشروط کیا جا رہا تھا۔

مولانا مسعود اظہر کو 2001ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا تھا
اسلام آباد( نیوز ڈیسک) 10 اگست 1968ء کو بہاولپور میں پیدا ہونے والے 47 سالہ مولانا مسعود اظہر کو پاکستانی حکام نے دسمبر2001ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد بھی گرفتار کیا تھا۔ لیکن کبھی با قاعدہ فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔ اب وہ جنوری2016ء میں پٹھان کوٹ کے بھارتی فضائی اڈے پر دہشت گرد حملے کے بعد مطلوب ہیں۔ مسعود اظہر کی تنظیم جیش محمد پر پارلیمنٹ پر حملے کے بعد بھارت نے پابندی لگا دی تھی جس میں5 حملہ آوروں سمیت 14 افراد مارے گئے تھے۔