اینٹی کار لفٹنگ سیل کے پولیس افسران بھی اغواء برائے تاوان میں ملوث

January 14, 2016 2:33 pm0 commentsViews: 28

کراچی میں اینٹی کار لفٹنگ سیل کے انسپکٹر اشتیاق غوری، رضوان ربی اور اکرم قریشی پرائیویٹ سیکورٹی اہلکار ساتھ رکھتے ہیں
اشتیاق غوری کی پرائیویٹ ٹیم بینکوں کے لئے ریکوری کا کام بھی کررہی ہے، اکرم قریشی چوری کی گاڑی استعمال کررہا ہے
کراچی( کرائم رپورٹر: بلال خان) قانون کے محافظ ہی قانون شکن نکلے۔ اینٹی کار لفٹنگ سیل شریف آباد کے انسپکٹر کا اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا انکشاف، پولیس انسپکٹر اشتیاق غوری اپنی پرائیویٹ برگلری چلا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کائونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے بعد اینٹی کار لفٹنگ سیل پولیس کے افسران بھی اغواء برائے تاوان اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرنے میں ملوث نکلے۔ با خبر ذرائع نے بتایا کہ اینٹی کار لفٹنگ سیل کے انسپکٹر اشتیاق غوری، رضوان، ربی الحسن، اکرم قریشی اور اپنے پرائیویٹ اہلکار جتوئی ، مون، شاہ جی، ریٹائرڈ پولیس اہلکار جمی کے ہمراہ اپنی برگلری چلا رہے ہیں۔ انسپکٹر اشتیاق غوری نے سینٹرل کے ایریا کا چارج سنبھالا ہوا ہے جبکہ ان کی پرائیویٹ ٹیم پورے کراچی میں اغواء برائے تاوان کا کام کر رہی ہے۔ با خبر ذرائع نے بتایا کہ انسپکٹر اشتیاق غوری پرائیویٹ بینکوں کی گاڑیوں کی ریکوری کا کام بھی کرتا ہے اور اس کے پرائیویٹ اہلکار بینکوں میں ریکوی آفیسر بھی ہیں۔ با خبر ذرائع نے مزید بتایا کہ کچھ عرصہ قبل انسپکٹر اشتیاق غوری نے پاسپورٹ آفس کے قریب کارروائی کرتے ہوئے اس وقت کے ایس ایچ او یوسف پلازہ اور موجودہ ایس ایچ او اے سی ایل سی عابد حسین شاہ کے ڈرائیور کو حراست میں لے کر بینک کی ڈفالٹر گاڑی اپنی تحویل میں لے کر سیل منتقل کر دیا تھا جس کے بعدSHO عابد حسین شاہ کے کہنے پر ڈرائیور اور گاڑی چھوڑ دی گئی تھی اور اشتیاق غوری کی جانب سےSHO عابد حسین شاہ کو مشورہ دیا گیا تھا کہ گاڑی میں سے ٹریک نکال لیں۔ با خبر ذرائع نے مزید بتایا کہ اینٹی کار لفٹنگ سیل شریف آباد نے رنچھوڑ لائن کے علاقے سے موٹر سائیکل چوروں کو گرفتار کیا تھا جس کو 2 لاکھ روپے دے کر انسپکٹر اشتیاق غوری نے چھوڑا تھا۔ پولیس کے با خبر ذرائع نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل انسپکٹر اشتیاق غوری نے اپنی ٹیم کے ہمراہ لیاقت آباد لالو کھیت میں کارروائی کرکے ایک شخص کو حراست میں لے کر ایک عدد ہائی روف بر آمد کرلی۔ پولیس نے ملزم سے 10 ہزار روپے رشوت اور گاڑی رکھ کر چھوڑ دیا اور اس گاڑی کے چیچز پنچ تھے جو کہ ابھی پولیس اہلکار اکرم قریشی کے استعمال میں ہیں جو کہ نارتھ کراچی اس کے گھر میں موجود ہے۔ مذکورہ کارروائیوں میں ایسا لگتا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں۔

لڑکے اور لڑکی کو چار دن غیر قانونی حراست میں رکھا گیا
دونوں نے ٹریفک حادثے میں بچے کے ہلاک ہونے کی اطلاع پولیس کو دی تھی، انہیں بھی حراست میں لے لیا گیا
خرم وارث کی مداخلت پر دونوں کو رہا کیا گیا، اشتیاق غوری نے معافی بھی مانگی تھی
کراچی( کرائم رپورٹر) انسپکٹر اشتیاق غوری جب ایس ایچ او نارتھ ناظم آباد تھا تو اس نے ایک سابقہ ایس ایس پی کی رشتے دار کی لڑکی اور بریگیڈ کے رہائشی لڑکے کو4 دن اپنی تحویل میں زبردستی رکھا ہوا تھا اور اس وقت کےSP نارتھ ناظم آباد اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن خرم وارث نے اس واقعے کا نوٹس لیا تھا اور انسپکٹر اشتیاق غوری کو معافی مانگنی پڑی۔ با خبر ذرائع نے بتایا کہ نارتھ ناظم آباد میں دونوں لڑکا لڑکی جا رہے تھے کہ روڈ پر ٹریفک حادثہ ہوا اور ایک بچہ جاں بحق ہوگیا۔ ان دونوں لڑکا لڑکی نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر دونوں لڑکے لڑکی کو حراست میں لے کر 4 دن نارتھ ناظم آباد تھانے میں رکھا اور رقم کا مطالبہ کرتا رہا جس کی شکایت اس وقت کے ایس پی نارتھ ناظم آباد خرم وارث کو دی گئی جس پر انسپکٹر اشتیاق غوری نے ان دونوں کو رہا کیا اور معافی مانگی۔