محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز میں15 کروڑ کی بے قاعدگی

January 14, 2016 2:44 pm0 commentsViews: 16

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں رقم کی خلاف ضابطہ استعمال کی نشاندہی کروں گی
سروے کرانے کیلئے ایک کمپنی کو تین کروڑ84 لاکھ دیے گئے تھے، لیکن سروے کی رپورٹ بھی نہیں ملی
کراچی( نیوز ایجنسیاں) محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز سندھ میں آڈٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے15 کروڑ60روپے خلاف ضابطہ استعمال کرنے کی نشاندہی کی گئی۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے2014-15 کے دوران جاری آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز کی جانب سے ایک تعمیراتی کمپنی ایم ایس ایم ایوب اینڈ کمپنی کو سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ اور چار دیواری کی تعمیر کیلئے11 کروڑ 75 لاکھ 60ہزار روپے کی رقم پیشگی ادا کی گئی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ اور چار دیواری تعمیر ہی نہیں کی گئی آڈٹ کے دوران جب محکمہ سے ریکارڈ اور تعمیراتی کام کے ثبوت فراہم کرنے کو کہا گیا تو ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا آڈٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز کے ذمہ داران کو اس بے ضابطگی سے آگاہ بھی کیا گیا لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا اور نہ ہی محکماتی اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا گیا۔3 کروڑ 84 لاکھ روپے کے سروے بھی کرائے گئے جس کیلئے رقم ایم ایس ظہیر الدین کنسلٹنٹ کو ادا کی گئی، سروے کا بھی ریکارڈ آڈٹ کے لئے فراہم نہیں کیا گیا۔ آڈٹ ڈپارٹمنٹ میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔