ملک بھر کے 50ہزار اسکولوں کے بچے صاف پانی اور بیت الخلا سے محروم

January 14, 2016 2:44 pm0 commentsViews: 18

وفاقی حکومت کا 16-17 سے ’’تعلیمی اصلاحات‘‘ لانے کا وعدہ بھی وفا نہ ہوسکا، وزارت منصوبہ بندی منصوبہ پیش کرنے میں ناکام
یکساں نظام راج کرنے کی بات کرکے ابھی تک67 لاکھ بچوں کو اسکولوں میں لانے کے اقدامات نہیں کیے گئے، ذرائع
اسلام آباد( یو پی پی) ملک بھر کے 50ہزار سے زائد سرکاری پرائمری اسکولوں کے ایک کروڑ ننھے طلبہ پینے کے صاف پانی اور بیت الخلا جیسی بنیادی سہولتوں کی محرومی کے ساتھ یکم اپریل سے شروع ہونے والے نئے تعلیمی سال کو خوش آمدید کہنے پر مجبور ہوں گے، وفاقی حکومت کا نئے تعلیمی سال2016-17 سے تعلیمی اصلاحات لانے کا وعدہ بھی وفا نہیں ہو سکا۔ ملکی تعلیمی ڈھانچے میں اصلاحات کے حوالے سے وفاقی وزارت منصوبہ بندی و ترقی اب تک اپنی سفارشات لانے اور تعلیمی مسائل کی نشاندہی کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔ گورنس فورم میں تعلیمی اصلاحات کو بھی تعلیمی سروے اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ تک ہی محدود رکھا گیا ہے ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کرنے کی بات تو کی گئی لیکن اسکولوں سے باہر67 لاکھ بچوں کو اسکولوں میں لانے کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی منصوبہ بھی پیش نہیں کیا گیا۔ ملکی تعلیمی ڈھانچے کو اس وقت اسکولز منیجمنٹ کمیٹی فنڈز میں کرپشن، اساتذہ کی غیر حاضری ، گھوسٹ اسکولز فنڈز کے حصول کیلئے جعلی انرولمنٹ اور غیر تربیت یافتہ اساتذہ جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، بدھ کو ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ ملک بھر میں ایک لاکھ3 ہزار 347 سرکاری پرائمری اسکولوں میں سے 50 ہزار سے زائد اسکولز پینے کے صاف پانی اور بیت الخلا جیسی سہولتوں سے محروم ہیں ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت منصوبہ بندی و ترقی کے گورنس فورم میں پرائمری تعلیم کو سرے سے ہی بحث میں نہیں لایا گیا۔ بلکہ تعلیمی سروے اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے حوالے سے چند سفارشات ترتیب دی گئی جبکہ تعلیمی مسائل کی بھی نشاندہی نہیں کی گئی۔