فرقہ وارانہ فسادات کرانے کیلئے کراچی آنے والے افغان انٹیلی جنس کے 4اہلکار ناظم آباد سے گرفتار

January 16, 2016 1:08 pm0 commentsViews: 23

تفتیش کے دوران ملزمان کے اہم انکشافات
نادریہ ہوٹل کے قریب سے گرفتار ملزمان کے پاس پاکستان میں داخل ہونے کیلئے دستاویزات موجود نہیں تھیں، جس پر حراست میں لیا گیا
چاروں افغانی پولیس کے اہلکار ہیں اور ان کا تعلق غزنی سے ہے، خصوصی مشن پر کراچی بھیجا گیا تھا، پوچھ گچھ کے دوران انکشاف
کراچی( کرائم رپورٹر) رضویہ پولیس نے خفیہ اطلاع پر ناظم آباد میں کارروائی کے بعد افغان انٹیلی جنس کے 4 اہلکاروں کو گرفتار کرلیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اہم انکشافات کئے جس کے مطابق وہ فرقہ وارانہ فسادات کرانے آئے تھے۔ تفصیلات کے مطابق رضویہ سوسائٹی پولیس نے خفیہ اطلاع پر ناظم آباد میں واقع نادریہ ہوٹل کے قریب کارروائی کرتے ہوئے 4 غیر ملکیوں امان اللہ، حکمت اللہ، محمد علی، عبدالنبی کو گرفتار کرلیا۔ ایس ایچ او رضویہ ادریس عالم نے بتایا کہ گرفتار ملزمان افغان پولیس کے اہلکار ہیں اور ان کا تعلق افغانستان کے صوبے غزنی سے ہے ملزمان کے پاس پاکستان میں داخلے کی ضروری دستاویزات موجود نہیں ہیں لہٰذا ان کے خلاف فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انتہائی با خبر ذرائع کے مطابق رضویہ کے علاقے سے گرفتار ملزمان نے ابتدائی تفتیش میں انکشاف کیا ہے کہ وہ انٹیلی جنس ادارے کے اہلکار ہیں اور خصوصی مشن پر کراچی آئے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ طالبان کو اہل تشیع اور سیکورٹی فورسز سے لڑانے کی سازش کی گئی تھی۔ افغان انٹیلی جنس نے ملزمان کو کراچی میں طالبان کو ٹارگٹ کرنے کا ٹاسک سونپا تھا۔ ملزمان نے طالبان کو اہل تشیع اور فورسز سے لڑانے کیلئے طالبان قتل کئے۔ طالبان کے درمیان بیٹھ کر انہیں شیعہ اور فورسز کے خلاف اکسایا، ملزمان پاکستان آنے سے قبل افغانستان کے صوبہ ہرات اور غزنی کے تعینات تھے اور انٹیلی جنس مشن پر چند ماہ قبل پاکستان آئے، ملزمان نے سب سے پہلے کوئٹہ میں رہائش اختیار کی ٹاسک ملنے کے بعد عملدر آمد کیلئے کراچی آئے، ملزمان مشن کی تکمیل کیلئے دہشت گرد تنظیموں کو اسلحہ فراہم کرتے تھے۔