اشتیاق غوری نے اپنے رشتہ دارکو اغواء کرکے 2لاکھ تاوان لیا تھا

January 18, 2016 3:27 pm0 commentsViews: 24

معاملے کی تحقیقات ہونے پر اے سی ایل سی کے ایس ایچ او ز کی حیثیت سے ہٹادیا گیا تھا
کراچی( کرائم رپورٹر) اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں پویس افسران کے ملوث ہونے کے انکشاف کے بعد ان کی گرفتاری کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ حساس ادارے نے اینٹی کار لفٹنگ سیل کائونٹر ٹیررازم کو ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں کے خلاف تحقیقات شروع کر دی، تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ ان اغواء کے نتیجے میں کسی گروپ یا سیاسی جماعتوں کو ہاتھ نہیں بلکہ قانون کے محافظ ہیں جس کے بعد حساس ادارے حرکت میں آگئے ہیں اور اینٹی کار لفٹنگ سیل اور کائونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں کی تحقیقات شروع کر دی ہے اور با خبر ذرائع نے بتایا کہ حساس ادارے کے اہلکاروں نے اغواء برائے تاوان میں ملوث افسران و اہلکاروں پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور ان کی حرکات بھی نوٹ کی جا رہی ہیں با خبر ذرائع نے بتایا کہ حساس ادارے کے سیل میں اینٹی کار لفٹنگ سیل کے انسپکٹر اشتیاق غوری، اے ایس آئی اکرم، ربی الحسن و دیگر اہلکاروں کے خلاف متعدد درخواستیں آئی ہیں جو اغواء کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ جس پر حساس ادارے نے ایک ٹیم تشکیل دی ہے جو کہ ان معاملات کو دیکھے گی اور ان میں ملوث اہلکاروں و افسران کو قانون کی گرفت میں لائے گی ان افسران کو شواہد ملنے پر گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ با خبر ذرائع نے بتایا کہ اینٹی کار لفٹنگ سیل کے افسران بھی ان وارداتوں میں ملوث ہیں جن کی پردہ پوشی کی جا رہی ہے۔ کچھ دنوں قبل غریب آباد سے گرفتار اے ایس آئی اکرم بھی اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث تھا۔ جس پر رینجرز کے افسران نے نظر رکھی ہوئی تھی۔