اغو اء برائے تاوان میں ملوث پولیس اہلکاروں کی گرفتاری کا فیصلہ

January 18, 2016 3:32 pm0 commentsViews: 23

حساس ادارے نے اینٹی کارلفٹنگ سیل اور کائونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں کے خلاف تحقیقات شروع کردی
شہر قائد میں اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافہ ہونے کے بعد اس میں ملوث اہلکاروں کیخلاف ایکشن لینے کا فیصلہ کیا گیا
کراچی( کرائم رپورٹر) با خبر ذرائع نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل انسپکٹر اشتیاق غوری اے ایس آئی ابو عمیر اور پرائیویٹ اہلکاروں نے اعلیٰ پولیس افسر کے رشتے دار کو اغواء کرکے 2 لاکھ روپے تاوان طلب کیا تھا پر یہ بات پولیس کے اعلیٰ افسران تک جا پہنچی اور انسپکٹر اشتیاق غوری عمرے پر چلا گیا جب عمرے سے واپس آیا تو مذکورہ معاملے کی تحقیقات ہوئی جس میں انسپکٹر اشتیاق غوری کو ایس ایچ او اے سی ایل سی سے ہٹا دیا گیا تھا اور اس کی جگہ SI عابد حسین شاہ کو ایس ایچ او تعینات کر دیا گیا اے ایس آئی ابو عمیر اے سی ایل سی سے قبل کرائم برانچ ون میں تعینات تھا۔ جہاں پر اغواء برائے تاوان اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کے الزام میں2 بار اعلیٰ افسران نے معطل کیا جس کے بعد اے ایس آئی ابو عمیر نے اپنی پوسٹنگ اینٹی کار لفٹنگ سیل میں کروا دی اور اس وقت کے ایس ایچ او انسپکٹر اشتیاق غوری نے اے ایس آئی ابو عمیر کو پارٹی انچارج بنا دیا گیا تھا با خبر ذائع نے مزید بتایا کہ انسپکٹر اشتیاق غوری کے معاملے سے اے سی ایل سی ابو عمیر بیٹر کے لئے مشہور تھا۔ اے سی ایل سی کا سب انسپکٹر اشوک کمار، خالد کلام اور سرفراز بلوچ ایل او شریف آباد پر مشتمل گروہ تھا، گلستان جوہر میں اشوک کمار کے فلیٹ کی بائونڈری وال کے ساتھ ریکوری کی گئی۔ با خبر ذرائع نے مزید بتایا کہ ڈی ایس پی کا بھانجا ایکسائز کے حوالے سے تمام معاملات کا نگراں تھا اور راشد علوی تمام چوری اور چھینی جانے والی گاڑیوں کے حوالے سے تمام ڈیلنگ کرتا تھا اور شادی ہالوں کے باہر تمام میٹنگ ہوتی تھیں اور ڈی ایس پی ایڈمن کی بیٹ بھی اشتیاق غوری کا خاص بیٹر وصول کرتا ہے۔