عمران فاروق قتل کیس میں معظم علی مرکزی ملزم قرار

January 19, 2016 5:11 pm0 commentsViews: 17

عدالت نے معظم علی کو10 روزہ مزید ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کیا، ملزمان کے اعترافی بیان کو عبوری چالان کا حصہ بنایا گیا
خالد شمیم اور معظم علی نے عمران فاروق کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا (چالان کامتن) عمران فاروق بے گناہ افراد کا قاتل تھا، معظم علی
اسلام آباد( خبر ایجنسیاں) ایف آئی اے نے انسداد دہشت گرد کی عدالت میں عمران فاروق قتل کیس کا عبوری چالان پیش کردیا ہے جس میں معظم علی خان کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے۔ ایف آئی اے نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے ملزم کو اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج کے روبرو پیش کرتے ہوئے کیس کا عبوری چالان جمع کرا دیا جس میں ملزم معظم علی کو عمران فاروق کا قاتل قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے ملزم کو مزید10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔ پیر کو انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سید کوثر عباس زیدی نے عمران فاروق قتل کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر ایف آئی اے نے ملزم معظم علی کی مزید14 روزہ ریمانڈ کی درخواست کرتے ہوئے عبوری چالان پیش کیا جس میں معظم علی کو مرکزی ملزم اور قاتل قرار دیا گیا، ملزموں کا اعترافی بیان اور انکشافات بھی چالان کا حصہ بنائے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ خالد شمیم اور معظم علی نے عمران فاروق کو قتل کرنے کی سازش تیار کی۔ معظم علی خان کے وکیل نے کہا کہ عمران فاروق ایک عدالتی مفرور اور کئی بے گناہ لوگوں کا قاتل تھا اس کے مرنے سے امن ہوا ہے۔ دہشت گرد کے مرنے پر دہشت گردی کا مقدمہ درج نہیں ہو سکتا۔ کیس میں عدالت اور تفتیشی اداروں کو فریق بننا چاہئے۔ ابھی تک جے آئی ٹی کی کوئی رپورٹ عدالت میں پیش نہیں ہوئی لہٰذا کوئی فیصلہ کرنے سے قبل عدالت یہ دیکھے کہ کون متاثرہ فریق ہے۔