اکبر بگٹی قتل کیس میں پرویز مشرف بری،شوکت عزیز اور اویس غنی کے دائمی وارنٹ جاری

January 19, 2016 5:41 pm0 commentsViews: 49

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مقدمے میں نامزد آفتاب شیرپائو اور شعیب احمد نوشیروانی کو بھی بری کرنے کا حکم دے دیا
عدالتی فیصلے نے ثابت کردیا مقدمہ سیاسی تھا، امید ہے دیگر مقدمات میں بھی فیصلہ انصاف کے تحت ہوگا، پرویز مشرف
کوئٹہ( نیوز ایجنسیاں ) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کوئٹہ ون کے جج محمد گوہر نے نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں نامزد سابق صدر جنرل پرویز مشرف، قومی وطن پارٹی کے سربراہ و سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ اور سابق صوبائی شعیب نوشیروانی کی مقدمہ سے بریت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں بری جبکہ درخواست گزار کی جانب سے نواب اکبر بگٹی کی قبر کشائی، ڈی این اے ٹیسٹ، گواہان کو طلب کرنے اور ہائی کورٹ کے احکامات پر عملدر آمد کرنے سے متعلق دائر درخواستیں مسترد کر دیں، کیس میں نامزد مفرور ملزمان سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، سابق گورنر بلوچستان اویس احمد غنی اور عبدالصمد لاسی کے دائمی وارنٹ جاری کرنے کا بھی حکم دے دیا۔ ادھر درخواست گزار جمیل اکبر بگٹی نے فیصلے پر تحفظات کا اظہار جبکہ ان کے وکیل نے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پیر کو کیس کی سماعت کے موقع پر قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پائو، سابق صوبائی وزیر شعیب احمد نوشیروانی، ان کے وکلاء پرویز مشرف کے وکیل اختر شاہ ایڈووکیٹ، نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کے وکیل سہیل احمد راجپوت ایڈووکیٹ، تفتیشی ٹیم کے ارکان و دیگر بھی شریک ہوئے۔ کیس کی سماعت کے موقع پر عدالت کے جج نے درخواست گزار کی جانب سے دائر درخواستوں کو مسترد کرنے کا حکم سنایا۔ علاوہ ازیں جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اکبر بگٹی کیس میں عدالتی فیصلے نے ثابت کر دیا کہ ان کے خلاف مقدمہ سیاسی تھا امید ہے دیگر مقدمات میں بھی فیصلہ انصاف کے تحت ہوگا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں صداقت تھی نہ ہی اس میں کوئی کردار تھا، وہ پر امید تھے کہ انصاف غالب آئے گا اور عدالت کے فیصلے نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کے خلاف کیس سیاسی تھا۔ سابق صدر نے کہا کہ ان کے خلاف قائم دیگر مقدمات بھی من گھڑت ہیں امید ہے کہ ان کا فیصلہ بھی انصاف پر مبنی اور ان کے حق میں ہی آئے گا۔