شہر میں فضائی آلودگی سے قبل ازوقت اموات بڑھ گئیں

January 19, 2016 5:42 pm0 commentsViews: 19

دنیا بھر میں فضائی آلودگی سے 2012 میں 70 لاکھ افراد جاں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے
آلودگی کے باعث دل اور دماغ کے امراض جیسی بیماریوں کی تعداد میں اضافہ ہوتاجارہاہے
کھانا پکانے کے لیے محفوظ چولہے فراہم کردیے جائیں تو لاکھوں افراد کی جانیں بچ سکتی ہیں
نصف سے زائد اموات لکڑی اور کوئلے کے چولہوں سے اٹھنے والے دھویں سے ہوتی ہیں
نیو یارک( یو پی پی) عالمی ادارہ صحت نے خبر دار کیا ہے کہ شہروں میں آلودگی کی سطح زہریلی حد تک پہنچ گئی ہے۔ ادارے کی پبلک ہیلتھ کی سربراہ ڈاکٹر ماریا نیرا نے کہا ہے کہ قبل از وقت اموات اور دل و دماغ کے امراض جیسی طویل مدتی بیماریوں کی شکل میں اس بحران کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔ دو ہزار شہروں سے حاصل کر دہ اعداد و شمار کے مطابق بہت سے لوگ عالمی ادارہ صحت کی مقرر کر دہ حد سے کہیں زیادہ آلودگی کے ماحول میں زندگیاں گزار رہے ہیں۔ فضائی آلودگی سے دنیا بھر میں صرف سنہ 2012ء میں70 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ ان ہلاکتوں میں بیشتر جنوبی اور مشرقی ایشیا کے غریب اورمتوسط درجے کے ممالک میں ہوئیں اور نصف سے زیادہ اموات لکڑی اور کوئلے کے چولہوں سے اٹھنے والے دھوئیں کی وجہ سے ہوئیں۔ تحقیق کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ مکانات کے اندر کھانا پکانے کے عمل کے دوران اٹھنے والے دھویں سے خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اگر صرف کھانا پکانے کیلئے محفوظ چولہے ہی فراہم کر دئے جائیں تو دنیا میں لاکھوں افرادکی جانیں بچ سکتی ہیں۔