وزیراعلیٰ سندھ ایک درجن سے زائد وزارتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، متحدہ

January 19, 2016 5:51 pm0 commentsViews: 24

حکومت سندھ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد میں سنجیدہ نظر نہیں آتی صوبائی وزیر داخلہ سندھ کے معاملات سے بے خبر اور لاتعلق ہیں
ایم کیو ایم سندھ اسمبلی کے ایوان میں صوبے کے اہم مسائل اٹھا رہی ہے ،خواجہ اظہار الحسن کی اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن نے کہا ہے کہ حکومت سندھ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے سلسلے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی ۔ صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال سندھ کے معاملات سے بالکل بے خبر اور لاتعلق ہیں ۔ مدارس کی رجسٹریشن قومی ایکشن پلان کے بنیادی عنصر میں شامل ہے لیکن وزیر داخلہ نے یہ ذمہ داری وزارت مذہبی امور پر ڈال دی ہے ۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایسے لاتعداد مدارس موجود ہیں ، جو انتہا پسندی کی تعلیم دے رہے ہیں اور ان کی رجسٹریشن کے حوالے سے اب تک کوئی کام نہیں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سندھ کے نوجوان وزیر داخلہ کو اپنے وزارت کے معاملات کا علم ہی نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ ان سے پہلے کے وزیر داخلہ نے جو حرکتیں کیں ، وہ انہیں بھی بھگت رہے ہیں ۔ قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ سینئر وزیر نثار احمد کھوڑو ، وزیر اعلیٰ سندھ ایک درجن سے زائد وزارتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور انہیں ان وزارتوں کے معاملات کا علم نہیں ہے ۔ ایوان کی کارروائی کے دوران میں نے ان سے پوچھا تھا کہ ہیومن رائٹس کا دفتر کہاں واقع ہے ۔ سینئر وزیر نے کہا کہ مجھے اس کا علم نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سندھ اسمبلی کے ایوان میں صوبے کے اہم مسائل اٹھا رہی ہے ۔ حکومت سندھ ہر سال تھر کے لیے رقوم میں اضافہ تو کر رہی ہے لیکن لوگوں کی اموات کا سلسلہ بند نہیں ہو رہا ۔ خواجہ اظہار الحسن نے وزیر اعلیٰ سندھ کے اتوار کو کراچی کے طوفانی دورے کے حوالے سے کہا کہ پہلے سندھ گورنمنٹ میں گھوسٹ ملازمین موجود تھے ۔ اب وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے گھوسٹ اعلانات سامنے آ رہے ہیں ۔