سپر ہائی وے پر مقابلے میں 3دہشتگرد ہلاک، لیاری میں 2گینگ وار کارندے مارے گئے

January 20, 2016 3:22 pm0 commentsViews: 19

رینجرز نے نادرن بائی پاس کے قریب دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارا تھا، مقابلے میں مارے جانے والے دہشت گرد سنگین جرائم میں ملوث تھے
لیاری گل محمد لین میں بابا لاڈلہ رئوف ناظم گروپ کے دو کارندے مقابلے میں مارے گئے، ایک رینجرز اہلکار زخمی، ملزمان کے ساتھی فرار ہوگئے
کراچی( کرائم رپورٹر) کراچی میں رینجرز نے دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاںایک بار پھر تیز کردیں ہیں۔سپر ہائی وے پر رینجرز کی کارروائی کے دوران مقابلے میں کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے3دہشتگرد ہلاک ہوگئے پاکستان رینجرز سندھ نے سپر ہائی وے ناردرن ر بائی پاس کے قریب کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارا تو وہاں موجود ملزمان نے فائرنگ کردی ملزموں کی فائرنگ کے بعد رینجرز کی مزید نفری طلب کرلی گئی اور دو بدو مقابلے کے نتیجے میں تین دہشتگرد مارے گئے جبکہ انکا چوتھا ساتھی وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ رینجرز ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران ایک رینجرز اہلکار بھی زخمی ہوا۔ ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے آتشی اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ ترجمان کے مطابق دہشتگردوں کی شناختیں شمشیر خان، عطا اللہ عرف داؤد اور ظہیر عرف زفیر کے ناموں سے ہوئیں جو کہ متعدد ٹارگٹ کلنگ، پولیس کلنگ، بھتہ خوری ، گینگ ریپ، اغوا برائے تاوان ، رینجرز پر حملوں اور دیگر وارداتوں میں ملوث تھے۔ پاکستان رینجرز سندھ کی لیاری گل محمد لین میں کارروائی کے دوران ہونے والے مقابلے میں لیاری گینگ وار کے دو ملزمان مارے گئے ۔ پاکستان رینجرز سندھ کی ٹیم نے لیاری گل محمد لین میں خفیہ اطلاع پر بابا لاڈلہ رؤف ناظم گروپ کے کارندوں کی موجودگی کی اطلاع پر چھالہ پارا ۔ ترجمان رینجرز کے مطابق کارروائی کے دوران ملزمان نے رینجرز اہلکاروں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک رینجرز اہلکار زخمی ہوگیا ، رینجرز کی جوابی کارروائی میں دو ملزمان زخمی ہوگئے جبکہ دیگر ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔ زخمی ملزموں کے قبضے سے اسلحہ اور گولیاں برآمد ہوئیں جنہیں اسپتال منتقل کیا جارہا تھا تاہم دونوں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزموں کی شناختعادل عرف رند عرف سلمان اور عبدالمعید کے ناموں سے ہوئیں جو متعدد افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی جن میں پولیس افسران ، رینجرز اہلکار اور عام افراد شامل ہیں جبکہ اغوا برائے تاوان ، بھتہ خوری ، دستی بم حملوں سمیت دیگر ورداتوںمیں پولیس کو مطلوب تھے ۔