اپوزیشن ارکان کے شور شرابے میں ترمیمی بل منظور

January 20, 2016 3:23 pm0 commentsViews: 22

میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کیلئے خفیہ رائے شماری نہیں ہوگی
بلدیاتی اداروں کے نمائندوں کا انتخاب ہاتھ اٹھا کر کیا جائے گا، سندھ اسمبلی میں ترمیمی بل منظور
نجی قراردادوں کے وقفے کے بعد سینئر وزیر نثار کھوڑو نے اچانک لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کر دیا
اپوزیشن ارکان کی شدید مخالفت اور نعرے بازی، بل پیش کرنا غیر آئینی رویہ ہے، خواجہ اظہار الحسن
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کے زبردست احتجاج اور شور شرابے کے دوران سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ، جس کے تحت بلدیاتی اداروں کے میئرز ، ڈپٹی میئرز ، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات میں خفیہ رائے شماری کی بجائے شو آف ہینڈ سے رائے شماری ہو گی ۔ منگل کو پرائیویٹ ممبرز ڈے تھا ۔ نجی قرار دادوں کے وقفہ کے بعد سینئر وزیر نثار احمد کھوڑو نے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 ء میں ترمیم کا بل پیش کرنے کے لیے اچانک ضمنی ایجنڈا پیش کیا ۔ اپوزیشن ارکان نے اس کی زبردست مخالفت کی اور نعرے بازی شروع کر دی ۔ اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ آج پرائیویٹ ممبرز ڈے ہے ۔ پرائیویٹ ممبرز کے بل بھی ایجنڈے میں موجود ہیں ، انہیں یہ بل پیش کرنے کا موقع دیا جائے ۔ سینئر وزیر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کے ایوان مکمل ہونے جا رہے ہیں ۔ ہم نہیں چاہتے کہ ان میں رکاوٹ ہو ۔ میئرز ، ڈپٹی میئرز اور چیئرمینوں کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی 20جنوری سے جمع ہونا شروع ہوں گے ۔ اس لیے اس بل کی منظوری ضروری ہے ۔ اسپیکر نے اپوزیشن ارکان سے کہا کہ وہ حکومت سے ہمیشہ تعاون کرتے رہے ہیں ۔ اس معاملے پر بھی تعاون کریں ۔ لیکن اپوزیشن ارکان ’’ نو نو نو ‘‘ کے نعرے لگاتے رہے ۔ وہ ’’ گو کرپشن گو ‘‘ کے نعرے بھی لگاتے رہے ۔ اپوزیشن کے زبردست احتجاج اور شور شرابے کے دوران بل کثرت رائے سے متعارف اور منظور کر لیا گیا ، جس کے تحت سندھ کے بلدیاتی اداروں کے چیئرمینوں ، ڈپٹی چیئرمینوں ، میئرز اور ڈپٹی میئرز کے انتخابات میں خفیہ رائے شماری کی بجائے شو آف ہینڈ کے ذریعہ رائے شماری ہو گی ۔ بل کی منظوری کے بعد اسپیکر نے اجلاس جمعہ کی صبح 10 بجے تک ملتوی کر دیا ۔