سوئس بینکوں سے 200ارب ڈالر کی واپسی ناممکن ہوگی

January 20, 2016 3:45 pm0 commentsViews: 25

پاکستانی رقم واپس لانے کا دعویٰ کرنیوالی مسلم لیگ ن کی حکومت نے اعتراف کرلیا ہے کہ پیسے کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے
سوئس حکومت اور پاکستانی حکومت کے درمیان رقوم و اپس لانے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) سوئس بینکوں میں پڑے ہوئے دو سو ارب ڈالر کی واپسی کا دعویٰ کرنے والی مسلم لیگ ن کی حکومت نے اب اعتراف کیا ہے کہ ابھی اس پیسے کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ سوئس حکومت کے ساتھ پیسوں کی واپسی کا کوئی معاہدہ ہی نہیں ہے۔ یہ اعتراف وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پارلیمنٹ میں پیش دستاویز میں کیا اور اڑھائی سال قبل اسحاق ڈار نے ہی یہ رقم لانے کا اعلان کیا تھا، تاہم اب وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ سوئس حکومت اور پاکستان کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ ہی موجود نہیں ہے جس کے تحت اربوں ڈالر جو سوئس بینکوں میں پڑے ہوئے ہیں انہیں واپس لایا جا سکے دوہرے ٹیکسوں سے بچائو کے حوالے سے بھی موجودہ معاہدے میں ایسی کوئی شق موجود نہیں، جس کا تعلق سوئس بینکوں سے رقوم کی واپسی سے ہو وزیر خزانہ کہتے ہین کہ دو ہزار تیرہ میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا دوہرے ٹیکس سے بچائو کے حوالے سے موجودہ معاہدے پر نظر ثانی کی جائے گی خاص کر بینکوں میں پڑی رقوم سے متعلق اطلاعات کے تبادلے کا آرٹیکل معاہدے میں شامل کرانا تھا اس پر دونوں ممالک کے حکام کے درمیان اگست دو ہزار چودہ میں مذاکرات بھی ہوئے تھے بعد ازاں پاکستان نے اقوام متحدہ اور او سی سی ڈی کے کنونشنز کی روشنی میں ایک نیا آرٹیکل بھی پرانے سے تبدیل کیا جس کے تحت سوئٹزر لینڈ تمام خفیہ اکائونٹس سے متعلق معلومات دینے کا پابند ہوگا تاہم ساتھ ہی وزیر خزانہ نے واضح کر دیا کہ پاکستان اور سوئٹزر لینڈ کے درمیان معلومات کے تبادلے کا کوئی باہمی معاہدہ بھی موجود نہیں ہے۔