پاک فوج نے فوری ایکشن لے کر چاروں حملہ آوروں کو مار ڈالا

January 21, 2016 11:57 am0 commentsViews: 23

خودکش جیکٹوں اور بھاری اسلحہ سے لیس دہشت گرد فائرنگ کرتے ہوئے یونیورسٹی کے عقب کی دیوارپھلانگ کر اندر داخل ہوئے تھے
حملہ آوروں نے کینٹین اور ہاسٹل پر بھی گولیاں برسائیں اور بم پھینکے، پاک فوج نے ایک گھنٹے میں دہشتگردوں کا خاتمہ کرکے طلباء کو ریسکیو کرلیا
پشاور( نیوز ایجنسیاں) ضلع چار سدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گرد حملے میں ایک اسسٹنٹ پروفیسر و طالبات سمیت20 افراد شہید ہو چکے جبکہ 11 زخمی ہوگئے جبکہ پاک فوج نے فوری جوابی آپریشن کرتے ہوئے چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔ زخمیوں کو جی ایچ کیو اسپتال چار سدہ اور لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق چار دہشت گرد جو خود کش جیکٹوں اور بھاری اسلحہ سے لیس تھے بدھ کی صبح9 بج کر15 منٹ پر دھند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یونیورسٹی کے عقب سے دیوار پھلانگ کر احاطے میں داخل ہوئے ، ڈی آئی جی آپریشنز سعید خان وزیر کے مطابق حملہ آوروں کا پہلے یونیورسٹی گیٹ پر تعینات گارڈ سے مقابلہ ہو امیں جس میں تین گارڈز زخمی ہوئے یونیورسٹی میں قوم پرست رہنما باچا خان کی28 ویں برسی کے حوالے سے مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس میں شرکت کیلئے اساتذہ اور عملے کی بڑی تعداد موجود تھی کہ اچانک اندھا دھند فائرنگ اور دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ حملے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس پہنچ گئی اور کسی بھی آرڈر کے بغیر یونیورسٹی کا محاصرہ کرتے ہوئے آپریشن شروع کر دیا۔ جس سے حملہ آور مختلف اطراف میں پھیل گئے۔ حملہ آوروں نے کینٹین اور ہاسٹل پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی اور دستی بم پھینکے، فائرنگ اور ہولناک دھماکوں سے افرا تفری پھیل گئی اور طلبہ نے جانیں بچانے کیلئے مرکزی دروازے کی طرف دوڑ لگا دی، عینی شاہد ایک طالب علم نے بتایا کہ حملہ آور یونیورسٹی کے عقب میں واقع گیسٹ ہائوس کی جانب سے داخل ہوئے جبکہ ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا پہلے یونیورسٹی گارڈ سے مقابلہ ہوا جس میں3 گارڈ بھی زخمی ہوئے۔ پھر پولیس وہاں پہنچ گئی جبکہ پشاور سے پاک فوج کے کوئیک رسپانس کمانڈوز بھی پہنچ گئے اور انتہائی مہارت سے آپریشن کرتے ہوئے صرف ایک گھنٹے میں ہی دہشت گردوں پر قابو پا کر 700 سے زائد طلبہ کو ریسکیو کر لیا۔