باچا خان یونیورسٹی پر حملہ طلباء سمیت 20افراد شہید حملے کی کڑیاں سرحد پار دہشتگردوں سے ملتی ہیں ترجمان پاک فوج ۔ سانحے سے متعلق مزید خبریں

January 21, 2016 12:03 pm0 commentsViews: 31

حملہ آور کون تھے، کہاں سے آئے، کس نے بھیجا، سب پتہ چل گیا ہے، بہت کم وقت میں کافی بریک تھرو ہوچکا ہے، ساری معلومات ہمارے پاس آچکی ہیں
دہشتگردوں کے موبائل فونز کا زیادہ ڈیٹا مل گیا، ایک دہشتگرد کے مرنے کے بعد بھی افغان سم سے کالز آرہی ہیں، 4دہشتگرد ہلاک ہوئے، ڈی جی آئی ایس پی آر کی میڈیاکو بریفنگ
راولپنڈی( مانیٹرنگ ڈیسک) باچا خان یونیورسٹی چار سدہ پر حملے کی کڑیاں سرحد پار دہشت گردوں سے ملتی ہیں دہشت گردوں کے حملے میں طلباء سمیت 20 افراد جاں بحق ہوئے 10 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ باچا خان یونیورسٹی میں بروقت کارروائی کرکے دہشت گردوں کو روکا گیا، حملہ آور کون تھے، کہاں سے آئے تھے۔ کس نے بھیجا تھا؟ سب پتہ چل گیا ہے، بہت کم وقت میں کافی بریک تھرو ہو چکا ہے ساری معلومات ہمارے پاس آگئی ہیں دہشت گردوں کے موبائل فونز کا زیادہ تر ڈیٹا ریکور کرلیا گیا ہے ایک دہشت گرد کے مرنے کے بعد بھی اس کے فون پر افغان سم سے کالز آرہی تھیں، سم کس کمپنی کی تھیں پھر بتائیں گے۔ میڈیا کو سانحہ چار سدہ سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے عاصم حسین باجوہ نے کہا کہ با چا خان یونیورسٹی میں انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ حملے میں 20 افراد شہید اور11 افراد زخمی ہوئے شہید ہونیوالوں میں18 طالب علم اور اسٹاف کے2 ارکان شامل ہیں۔ چار دہشت گردوں نے باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کیا، دہشت گردوں کے خلاف بھر پور جوابی کارروائی کی گئی، یونیورسٹی کے سیکورٹی اسٹاف نے مزاحمت کی، چار سدہ میں ملٹری گیریژن نہیں ہے، فوج پشاور سے آئی، جب فوج پہنچی تو چاروں دہشت گرد زندہ تھے۔ دہشت گردوں کو ہاسٹل کی چھت اور سیڑھیوں پر مارا گیا۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے آپس میں رابطے ہوئے تھے۔ ان کے قبضے سے2 موبائل فون بر آمد ہوئے، جن میں ٹیلی فون کالز کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ فرانزک اور فنگر پرنٹس کی معلومات نادرا کو دی گئی ہیں۔ موبائل فونز سے زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ دہشت گرد کہاں سے آپریٹ کر رہے ہیں، ہمیں معلومات ہیں، یونیورسٹی حملے کے بعد انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر آپریشن شروع کر دئیے ہیں مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس؎ آپریشن جاری ہیں۔

طالب علموں نے بالائی منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی جانیں بچائیں
دہشت گرد اسلحہ لہرا کر نعرہ تکبیر لگاتے ہوئے داخل ہوئے، خودکش جیکٹس پہن رکھی تھیں، عینی شاہدین
چار سدہ( مانیٹرنگ ڈیسک) یونیورسٹی کے نوجوان طالب علموں میں بہت سے ایسے تھے جنہوں نے بالائی منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی اور زخمی ہوگئے۔ چند ایسے تھے جو پشاور اسکول کے بچوں کی مانند کلاسوں میں موجود میزوں کے نیچے یا پھر اپنے کمروں میں چھپ گئے۔ چند عینی شاہدین نے حملے کے بعد باچا خان یونیورسٹی کے باہر موجود میڈیا سے گفتگو کی، ایک طالب علم نے بتایا کہ حملہ آوروں نے پہلا فائر سیکورٹی اہلکاروں پر کیا اور اس وقت وہ خود بھی قریب ہی موجود تھے۔ ہم نے کہا بھاگو یار یہ تو دہشت گرد آگئے ہیں۔ پھر بس پتہ نہیں ہم نے کچھ نہیں دیکھا ہم نے ان کے قدموں کی آوازیں سنیں اور نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے جو وہ نعرے لگا رہے تھے وہ بھی سنے۔ ایک سپرنٹنڈنٹ اور ایک دوسرا لڑکا تھا ہم میز کے نیچے لیٹ گئے یونیورسٹی میں موجود ایک دوسرے عینی شاہدین نے بھی دہشت گردوں کو فائرنگ کرتے دیکھا بقول ان کے وہ بہت ماہرانہ انداز میں فائرنگ کر رہے تھے۔

دہشت گردوں کی فنگر پرنٹس رپورٹ وزارت داخلہ کو بھجوادی گئی
مقابلے میں مارے جانے والے دو دہشت گردوں کی عمریں 18سال سے کم تھیں
اسلام آباد( نیوز ڈیسک) نادرا نے باچا خان یونیورسٹی چارسدہ میں دہشت گردی کے سنگین واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کے فنگر پرنٹس کے ذریعے شناخت پر اپنی رپورٹ مکمل کرکے وزارت داخلہ کو بھجوادی‘ بدھ کو ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی ہدایت پر نادرا کی خصوصی ٹیم باچا خان یونیورسٹی چارسدہ بھجوائی گئی تھی جس نے واقعہ میں ملوث ہلاک ہونیوالے چاروں دہشت گردوں کے فنگر پرنٹس کے ذریعے شناخت کی رپورٹ بھجوادی ہے‘ یہ رپورٹ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو پیش کردی گئی ہے‘ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سیکورٹی اداروں سے مذکورہ معلومات کا تبادلہ کرنے کی ہدایت کردی‘ رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں میں سے2 دہشت گردوں کی عمریں18سال سے کم ہیں۔

یونیورسٹی پر حملہ کرنے والے دہشت گردافغانستان سے آئے
دہشت گردحملے میں ’’را‘‘ کے ٹرینڈدہشت گرد عمرامین اور طارق گیندر ملوث ہیں
مولوی فضل اللہ کے دست راست کی کال ٹریس ہونے کے بعد کئی اہم انکشافات سامنے آگئے
پشاور( مانیٹرنگ ڈیسک) چار سدہ یونیورسٹی پر حملے سے معتبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کرانے میں را کے ٹرینڈ و دہشت گرد عمر امین اور طارق گیندر ملوث ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ دہشت گرد افغانستان سے آئے۔ حملہ کی پلاننگ اور عمل میں بھارتی ایجنسی را کے ٹرینڈ عمر امین اور طارق گیندر شامل ہیں جنہوں نے از بک دہشت گردوں کو مذموم مقصد کیلئے استعمال کیا۔ دریں اثناء سانحہ چار سدہ کی سازش افغانستان میں تیار ہوئی۔ کالعدم تحریک طالبان کے امیر مولوی فضل اللہ کے دست راست کمانڈر کی کال ٹریس ہونے کے بعد کئی اہم انکشافات بھی سامنے آگئے۔ پاکستان معاملہ افغان حکومت کے ساتھ اٹھائے گا۔ ذرائع کے مطابق امن کے دشمنوں نے خطے میں استحکام کی پاکستانی کوششوں کو سبو تاژ کرنے کی ناپاک سازش افغانستان میں تیار کی۔ ذرائع کے مطابق کالعدم تحریک طالبان کے امیر مولوی فضل اللہ کے دست راست کمانڈر کی کال ٹریس ہوئی ہے۔ جس کے مطابق کمانڈر نے بھارتی قونصلیٹ سے باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے لئے تیس لاکھ بھارتی روپے حاصل کئے۔ ذرائع نے کالعدم تحریک طالبان کے کمانڈر اور حملہ آوروں کے درمیان 0093774022167، 0093782552489 اور 0003774262593 کے ذریعے مسلسل رابطے کا انکشاف بھی کیا ہے۔ یہی کمانڈر دہشت گردوں کو افغانستان میں بیٹھ کر کنٹرول کر رہا تھا۔ حکومت پاکستان نے انکشاف کا معاملہ افغان حکومت کے ساتھ اٹھانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

باچا خان یونیورسٹی حملے میں
مارے گئے دہشت گرد کی شناخت
پشاور( مانیٹرنگ ڈیسک) چار سدہ باچا خان یونیورسٹی پر حملے میں مارے گئے2 دہشت گردوں کی شناخت عباس افغانی اور علی رحمن کے ناموں سے ہوئی۔ جبکہ ایک دہشت گرد کی عمر 18 سال سے کم تھی۔ دوسرے دہشت گرد کا رابطہ صوبہ ننگر ہار سے مسلسل رہا۔

باچا خان یونیورسٹی میں
سرچ آپریشن کی فضائی نگرانی
چارسدہ( یو پی پی) باچا خان یونیورسٹی میں دہشت گردوں نے حملہ ساڑھے نو بجے کیا اور دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج کے جوان اور پولیس کی بھاری نفری دس بجے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے‘ پاک فوج کے جوان یونیورسٹی کے اندر داخل ہوئے اور یونیورسٹی میں محصور طلباء اور طالبات کو باہر نکالا سیکورٹی فورسز نے یونیورسٹی کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا جبکہ پاک فوج کاہیلی کاپٹر بھی سرچ آپریشن کی فضائی نگرانی کرتا رہا۔