دہشت گرد اب میڈیا ہائوسز کو نشانہ بنائینگے، حساس اداروں کی رپورٹ

January 21, 2016 12:05 pm0 commentsViews: 26

چارسدہ واقعہ کے بعد سندھ میں سیکورٹی سخت کردی گئی،تعلیمی اداروں اور عبادت گاہوں کی سیکورٹی کا ازسرنوجائزہ لینے کی ہدایت
وزارت داخلہ کے حکم پر اسلام آباد انتظامیہ نے میڈیاہائوسز کی سیکورٹی کا پلان تیار کرنے کے لیے آج اہم اجلاس طلب کرلیا، سیکورٹی اہلکاروں اور ورکرز کی مکمل اسکروٹنی کی جائے گی
ایڈیشنل آئی جی کراچی نے پولیس اہلکاروں کو کالعدم تنظیموں اور جرائم پیشہ عناصر پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کردی، حساس علاقوں میں اسکولوں اور کالجز کی سیکورٹی بھی فول پروف بنانے کے لیے کہا گیا ہے
کراچی( کرائم ڈیسک، آن لائن) ملک دشمن دہشت گردوں نے چار سدہ یونیورسٹی پر حملے کے بعد پاکستانی میں میڈیا ہائوسز پر حملوں کا منصوبہ بنا یا ہے۔ حساس اداروں نے وزارت داخلہ کو دہشت گردوں کے منصوبے سے آگاہ کر دیا دوسری طرف سانحہ چار سدہ کے بعد سندھ میں سیکورٹی سخت کر دی گئی اسکول گاڑیوں، عبادت گاہوں کی سیکورٹی از سر نو مرتب کرنے کی ہدایت کر دی گئی ذرائع کے مطابق حساس ادارے نے اطلاع دی ہے کہ پاکستان میں دیگر قومی اداروں کی طرح دہشت گردوں کی جانب سے میڈیا ہائوسز پر بھی حملوں کا خطرہ ہے سیکورٹی کا نظام موثر انداز میں ترتیب دیا جائے، وفاقی وزارت داخلہ کی ہدایات کے بعد ضلعی انتظامیہ نے آج میڈیا ہائوسز کی سیکورٹی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ اس حوالے سے میڈیا ہائوسز کو تحریری نوٹس کے ذریعے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں میڈیا ہائوسز کی سیکورٹی نئے سرے سے مرتب کرنے، سیکورٹی اہلکاروں سمیت ورکرز کی مکمل اسکروٹنی کو یقینی بنانے پر بات کی جائے گی جبکہ ایمر جنسی اطلاع کیلئے استقبالیہ پر اقدامات کو ممکن بنانے سمیت دیگر امور زیر بحث آئیں گے۔ اجلاس میں سیکورٹی اداروں کے اعلیٰ افسران اور متعلقہ اداروں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ علاوہ ازیں چار سدہ واقعہ کے بعد سندھ میں سیکورٹی سخت کر دی گئی محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے تعلیمی اداروں اور عبادت گاہوں کی سیکورٹی کا از سر نو جائزہ لینے کے لئے صوبائی پولیس افسران کو ہدایات، ایک ہفتے کے اندر رپورٹ طلب کر لی ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر نے تمام زونل ڈی آئی جیز کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام اضلاع کے ایس ایس پیز، ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کو سانحہ چار سدہ کے تناظر میں شہر کی سیکورٹی کیلئے غیر معمولی اقدمات کا حکم جاری کریں۔ جاری کر دہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکار اپنے علاقوں میں کالعدم تنظیموں اور جرائم پیشہ عناصر پر کڑی نگاہ رکھیں گے۔ شہر کے حساس علاقوں بالخصوص کیڈٹ اسکول اور کالجز، نجی و سرکاری تعلیمی اداروںِ کالجوں، یونیورسٹیوں اور مشنری اسکول و کالجوں کی سیکورٹی کیلئے فول پروف اقدامات کئے جائیں۔ صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے لاڑکانہ میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چار سدہ واقعہ کے بعد کراچی سمیت صوبے کے دیگر شہروں میں سیکورٹی ہائی الرٹ کرتے ہوئے آئی جی سندھ ، ایڈیشنل آئی جی ، صوبے کے ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز کو تمام تعلیمی اداروں، عبادت گاہوںاور اسپتالوں کے سربراہان سے اجلاس کرکے ان کے تحفظ کیلئے سیکورٹی کا از سر نو جائزہ لے کر سیکورٹی کے انتظامات سخت کرکے رپورٹ ایک ہفتے کے اندر پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے کسی بھی اضلاع میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے نہیں دیں گے اس سلسلے میں پولیس کی غفلت ثابت ہوئی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔