سانحہ چارسدہ، ایم کیو ایم نے چوہدری نثار کے استعفے کا مطالبہ کردیا

January 21, 2016 12:10 pm0 commentsViews: 20

چار سدہ یونیورسٹی پر حملہ نیشنل ایکشن پلان کی ناکامی ہے، اس پلان پر شروع سے عمل ہی نہیں ہوا، ڈاکٹر فاروق ستار
وفاقی وزیر داخلہ اور کے پی کے کے وزیراعلیٰ کو از خود مستعفی ہوجانا چاہئے، متحدہ کے رہنمائوں کی عزیز آباد میں پریس کانفرنس
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) چار سدہ یونیورسٹی پر دہشت گرد حملے کے بعد متحدہ قومی موومنٹ نے وزیر داخلہ چوہدری نثار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ چار سدہ حملہ حکومت کی ناکامی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ اور کے پی کے کے وزیر اعلیٰ کو خود استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ سانحہ چار سدہ باچا خان یونیورسٹی نیشنل ایکشن پلان کی ناکامی ہے آج پوری قوم کا نیشنل ایکشن پلان پر اعتماد مجروح ہوا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر سرے سے عمل ہی نہیں ہوا یہ پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو پہلے اپنے گھر کی آگ کو بجھانا ہوگی پھر دوسرے گھروں کا رخ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے انتہا پسندی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر شاہد پاشا اور اراکین رابطہ کمیٹی ڈاکٹر عبدالقادر خانزادہ ، گلفراز خان خٹک، محمد واسع جلی، محمد حسین، ارشد حسن اور محترمہ زرین مجید کے ہمراہ بدھ کو خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ چار سدہ سانحہ بڑا سانحہ ہے اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اس نے آرمی پبلک اسکول کے سانحہ کی یاد تازہ کر دی ہے۔ سانحہ ایک مرتبہ پھر ہمیں احساس دلا رہا ہے کہ ہم اور پورا ملک اس وقت حالت جنگ میں ہیں ہم ملک کے اندر رہنے والے دشمن سے نبر آزما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا قیام، تیاری و منصوبہ اور پھر حملہ، یہ ہماری انٹیلی جنس کی ناکامی ہے عوام انٹیلی جنس اداروں اور ذمہ داروں سے سوال کرتی ہے کہ قومی ایکشن پلان پر عمل کیوں نہیں کیا گیا ہماری حکومت اور حکمرانوں میں یہ اخلاقی جرات ہی نہیں ہے کہ یہ واضح کہہ دیں کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا، ہم سمجھتے ہیں کہ ایکشن پلان پر اس لئے عمل نہیں ہوا کیونکہ پہلے دن سے آپ کا ویژن کلیئرنس نہیں تھا کہ آپ کا ہدف کیا ہے لیکن اس کے دوران اچھے اور برے دہشت گرد کی تفریق پھر سامنے آگئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کو خود کو منظم کرنے اور اس کو باہر جانے کا موقع ملا۔