حملہ آوروں کی گرفتار ی کیلئے پاکستان نے امریکہ اور افغانستان سے مدد مانگ لی

January 22, 2016 3:48 pm0 commentsViews: 26

آرمی چیف نے باچا خان یو نیورسٹی کی تحقیقات اور شواہد سے افغان صدر اور اتحادی افواج کے کمانڈر کو آگاہ کردیا
حملے میں طالبان ملوث ہیں، دہشتگردوں کو افغانستان سے کنٹرول کیا گیا، حملہ آوروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، راحیل شریف کی ٹیلیفون پر بات چیت
راولپنڈی ( آن لائن) چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے افغان صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبد اللہ اور اتحادی افواج کے کمانڈر جنرل جان کیمبل سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ اور ان سے چار سدہ سانحہ پر تبادلہ خیال کیا۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان کے مطابق آرمی چیف نے گزشتہ روز ان کو الگ الگ ٹیلی فون کرکے ان سے باچا خان یونیورسٹی چار سدہ میں ہونے والی دہشتگردی کی تحقیقات میں اب تک سامنے آنے والے شواہد سے آگاہ کیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ واقعہ کی تحقیقات کے مطابق دہشت گردی میں کالعدم تحریک طالبان کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس کے حملہ آوروں کو یونیورسٹی پر حملے اور وہاں کی جانے والی کارروائیوں کے درمیان موبائل فون کے ذریعے افغانستان کی حدود سے کسی مقام سے کنٹرول کیا گیا اور وہاں سے انہیں ہدایات دی جاتی رہیں۔ آرمی چیف نے افغان صدر، چیف ایگزیکٹو اور اتحادی فوج کے کمانڈر سے گفتگو کرتے ہوئے ان دہشت گردوں کی تلاش اور گرفتاری کیلئے تعاون کی ضرورت پر زور دیا، تا کہ انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ آرمی چیف نے کہا کہ چار سدہ حملے میں ملوث دہشت گردوں سے افغان سمیں بر آمد ہوئیں ہیں۔