پاکستان میں 72لاکھ افغان شہری سیکورٹی رسک بن گئے

January 23, 2016 1:26 pm0 commentsViews: 36

کراچی، راولپنڈی، اسلام آباد ، کوئٹہ اوردوسرے شہروں کی کچی آبادیوں میں روپوش افغان باشندے بم دھماکوں اور لوٹ مار میں ملوث ہیں
ملک کے 54شہروں میں افغان باشندوں نے اپنی جائیدادیں بھی بنا رکھی ہیں، کراچی میں سہراب گوٹھ ، منگھوپیر، اورنگی ٹائون، میٹروول، قائدآباد اور دیگر علاقوں میں مقیم افغان شہری سنگین جرائم میں ملوث ہیں
تاجر اور صنعت کاروں سمیت اہم شخصیات کو اغواء کرکے بھاری تاوان وصول کیاجاتا ہے، غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ کرلیا گیا، فوج کی مدد حاصل کیی جائے گی
کراچی (کرائم ڈیسک) کراچی سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں غیر قانونی طور پر مقیم 72لاکھ افغان شہری سیکورٹی رسک بن گئے ہیں جن کے خلاف گرینڈ آپریشن کی تیاریاں شروع کردی گئیں‘ فوج کی مدد بھی حاصل کی جائیگی‘ کراچی میں سہراب گوٹھ‘ منگھو پیر‘ اورنگی ٹائون ‘میٹروول قائد آباد اور دیگر علاقوں میں سینکڑوں غیر قانونی افغان باشندے مقیم ہیں جنہوں نے اپنے گروہ بنا رکھے ہیں یہ غیر قانونی باشندے بم دھماکوں سمیت اغواء برائے تاوان اور اسلحہ و منشیات کی خرید و فروخت میں بھی ملوث ہیں‘ تاجروں اور مختلف صنعتکاروں سمیت اہم شخصیات کو اغواء کرکے ان سے بھاری رقوم تاوان کے طور پر وصول کی جاتی ہیں‘ حساس اداورں کی رپورٹ کے مطابق ملک کی ہزاروں افغان کچی آبادیاں دہشت گردوںکی نرسریاں بنی ہوئی ہیں‘ پاکستان میں گزشتہ دس برسوں میں دہشت گردی کی78 فیصد وارداتوں میں کچی بستیوں میں مکین افغان مہاجر ملوث پائے گئے یا پھر انہوں نے دہشت گردوں کے سہولت کار ہونے کا کردار ادا کیا‘ لاہور‘ کراچی‘ راولپنڈی‘ اسلام آباد‘ پشاور‘ کوئٹہ اور کئی دوسرے شہروں کی کچی آبادیوں میں روپوش سینکڑوں افغان سربراہ براہ راست بم دھماکوں میں ملوث پائے جانے کے باعث سیکورٹی اداروں کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کیخلاف گرینڈ آپریشن کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا‘ آپریشن میں فوج کی مدد بھی حاصل کی جائیگی‘ وفاقی حکومت کے سیکورٹی اداروں کی مرتب کردہ ایک رپورٹ میں انکشافات کئے گئے ہیں کہ80 کی دہائی میں پاکستان ہجرت کرکے آنیوالے افغان مہاجرین کی تعداد 30لاکھ تھی جو اب بڑھ کر 72لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔35 برس گز جانے کے باعث لاکھوں افغان شہریوں نے نہ صرف پاکستانی شہریوں سے شادی کرلی ہیں بلکہ پاکستان کے قومی شناختی کارڈ بھی بنوالئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان شہری ان شناختی کارڈ ز کی مدد سے چاروں صوبوں میں ہزاروں جائیدادیں خرید لی ہیں جن کی مالیت کھربوں روپے ہے۔ ملک کے بیشتر بڑے شہروں میں افغانیوں نے کچی بستیاں بنا کر وہاں رہائش شروع کی اور دیکھتے ہی دیکھتے مقامی کاروبار اور مارکیٹوں میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرلیا‘ کراچی‘ لاہور‘ فیصل آباد‘ ملتان‘ گوجرانوالہ‘ راولپنڈی‘ پشاور‘ کوئٹہ‘ گجرات‘ حیدر آباد‘ سکھر کوہاٹ‘ بنوں ‘ڈیرہ اسماعیل خان‘ ڈیرہ غازی خان سمیت ملک کے54 شہروں میں افغان باشندوں نے نہ سرف کھربوں روپے کی جائیدادیں خریدیں بلکہ وہاں مقامی منڈیوں پر بھی ان کا کافی اثر و رسوخ ہے‘ ذرائع نے بتایا کہ ملک میں ہونیوالی منشیات کی اسمگلنگ اور چوری شدہ مال کی فروخت میں بھی افغان شہریوں کی بڑی تعداد ملوث ہے۔ ملک میں اسلحہ کی اسمگلنگ اور ایک صوبے سے دوسرے صوبے تک ترسیل میں بھی ہزاروں افغان شہری ملوث ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ دس سال میں ہونیوالے دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہری اور قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد ملوث پائے گئے ہیں۔ ملک کے بڑے شہروں میں واقع افغان بستیاں دہشت گردوں کے روپوش ہونے کے اہم ٹھکانے بنی ہوئی ہیں۔ دہشت گردوں کو رہائش اور ٹریولنگ کی سہولیات بھی انہی بستیوں میں رہنے والے افغان اور قبائلی باشندے دیتے ہیں جس کے باعث اکثر دہشت گرد پکڑے نہیں جاتے۔