خیرپور سے کراچی منتقل نہ ہونے پر 10لاکھ بوری گندم خراب ہونے کا خدشہ

January 23, 2016 1:56 pm0 commentsViews: 162

خیرپور ،کوٹ ڈیجی ،رانی پور ،ٹنڈومستی اور دیگر گوداموں میں ذخیرہ کی گئی گندم تاحال کراچی نہیں لائی جاسکی ہے
گودام خالی نہ کرائے گئے تو نئی خریدی جانے والی گندم کیلئے جگہ نہیں رہے گی، گندم خراب ہونے سے سندھ حکومت کو کروڑوں کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے
خیر پور ( مانیٹرنگ ڈیسک) خیر پور ضلع میں محکمے خوراک کے خیر پور کوٹ ڈیجی، رانی پور، ٹنڈو مستی اوردیگر گوداموں میں ذخیرہ کی گئی 10 لاکھ بوری گندم کراچی منتقل نہیں کی جا سکی گندم کے خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا تفصیلات کے مطابق خیر پور ضلع میں محکمہ خوراک کے خیر پور، کوٹ ڈیجی، رانی پور، ٹنڈو مستی اور دیگر گوداموں میں ذخیرہ کی گئی 10 لاکھ بوری گندم کراچی منتقل نہیں کی جا سکی۔ جس کی وجہ سے گندم خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ گندم خیر پور کے گوداموں میں گزشتہ سال گندم کی خریداری کے دوران عارضی طور پر ذخیرہ کی گئی تھی جس کو فوری طور پر کراچی منتقل کرنا تھا لیکن سال گزر جانے کے باوجود خریدی گئی گندم گوداموں میں پڑی ہوئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق خیر پور کے گوداموں میں سال بھر سے پڑی ہوئی گندم کو کیڑا لگ گیا ہے اور گندم بوسیدہ ہو رہی ہے جبکہ گزشتہ ایک سال سے بھرے ہوئے گودام اگر خالی نہ کرائے گئے تو نئی گندم خریدی جانے والی گندم گوداموں میں ذخیرہ نہیں ہو سکے گی۔ جس سے ایک طرف محکمہ خوراک کا نقصان ہوگا تو دوسری طرف گندم خراب ہونے سے سندھ حکومت کا کروڑوں روپے کا نقصان ہوگا۔ واضح رہے کہ 6 سال قبل بھی خیر پور کے گوداموںمیں گندم کراچی منتقل نہ کرنے سے کروڑوں روپے مالیت کی گندم خراب ہو گئی تھی اور گندم خراب ہونے کا ذمہ دار محکمہ خوراک کے افسر کو قرار دیا گیا تھا۔