اہم مصنوعات کی اسمگلنگ سے سرکاری خزانے کو 276ارب کا نقصان

January 23, 2016 1:58 pm0 commentsViews: 26

ہر سال 10ارب 11کروڑ ڈالر مالیت کی 11اہم مصنوعات ڈیزل، گاڑیاں، اسپیئر پارٹس، چائے، سگریٹ، موبائل فون، گارمنٹس، پلاسٹک، ٹی وی، اسٹیل کی پلیٹوں کی اسمگلنگ ہوتی ہے
اسمگلنگ پاک ایران، افغانستان سرحد پر ہوتی ہے، کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر موجود محکمہ کسٹم ودیگر ایجنسیوں کے اہلکار اسمگلنگ میں مددگار ملوث پائے گئے
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) قومی خزانے کو ڈیزل، گاڑیوں، ٹائر اسپیئر پارٹس ، چائے، سگریٹ موبائل فون و دیگر مصنوعات کی اسمگلنگ کے نتیجے میں سالانہ276 ارب روپے کا نقصان ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اسمگلنگ کی روک تھام کرنے والے متعلقہ ادارے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے۔ ایف بی آر کے خفیہ سروے کے مطابق سالانہ10 ارب ڈالر سے زائد کی 11 مصنوعات کی اسمگلنگ ہوتی ہے۔ جمعے کو مقامی اخبار کو موصولہ دستاویزات کے مطابق چند ماہ قبل فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے تھرڈ پارٹی کے ذریعے کرائے گئے ایک سروے میں انکشاف ہوا کہ پاکستان میں ہر سال 10 ارب 11 کروڑ روپے مالیت کی11 اہم مصنوعات ڈیزل، گاڑیاں، ٹائر، اسپیئر پارٹس، چائے، سگریٹ، موبائل، گارمنٹس، پلاسٹک مصنوعات، ٹیلی ویژن اور اسٹیل کی پلیٹوں کی اسمگلنگ ہوتی ہے۔ جس کے ذریعے قومی خزانے کو ڈیوٹی ٹیکس کی مد میں سالانہ276 ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ سروے رپورٹ کے مطابق زیادہ تر اشیاء کی اسمگلنگ پاک افغانستان اور پاک ایران کے راستے ہوتی ہے جبکہ کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم سمیت سمندری راستے بھی اسمگلنگ کیلئے استعمال ہوتے ہیں پاک افغان اور پاک ایران بارڈر کے ساتھ ساتھ کراچی پورٹ قاسم پر موجود محکمہ کسٹم و دیگر ایجنسیوں کے اہلکار مذکورہ اشیاء کی اسمگلنگ میں بطور ملوث پائے گئے ہیں جن کی ملی بھگت سے سرحدوں کے اندر آنا ممکن ہے۔ ذرائع کے مطابق سروے رپورٹ میں کسٹم حکام کی اسمگلروں کے ساتھ ملی بھگت کے بارے میں اہم انکشافات کئے گئے جنہیں حکام بالا نے دبا دیا ہے۔