باچا خان یونیورسٹی پر دہشتگرد حملے کے شبے میں 14افراد گرفتار

January 23, 2016 2:03 pm0 commentsViews: 18

یونیورسٹی کے خفیہ کیمروں کا ریکارڈ ایجنسیوں نے تحویل میں لے لیا، حملہ آوروں کا ماسٹر مائنڈ مقامی کمانڈر تھا، حساس ادارے کا انکشاف
سیکورٹی ادارے یونیورسٹی کے چانسلر سمیت دیگر عہدیداروں اور طلباء و طالبات سے بیانات قلمبند کریں گے، سرچ آپریشن میں 9افراد گرفتار کرلئے گئے
پشاور( خبر ایجنسیاں) سانحہ باچا خان یونیورسٹی چار سدہ کے حوالے سے تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ 14 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ یونیورسٹی کے خفیہ کیمروں کا ریکارڈ ایجنسیوں نے تحویل میں لے لیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق سانحہ چار سدہ کے حملہ آوروں کا ماسٹر مائنڈ مقامی کمانڈر تھا۔ دہشتگردوں کے یونیورسٹی کے قریب مقیم رہنے کے شواہد نہیں ملے۔ ذرائع نے بتایا کہ یونیورسٹی کے9 کیمروں سے حملہ آوروں کی شناخت میں مدد نہیں مل سکی۔ سیکورٹی اداروں نے یونیورسٹی ملازمین کی تمام تفصیلات کو بھی تحویل میں لے لیا ہے۔ ملازمین کی حاضری کا رجسٹر ڈیوٹی سے غیر حاضر ملازمین کی تفصیلات حاصل کر لی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سیکورٹی ادارے یونیورسٹی کے وائس چانسلر، رجسٹرار، ڈین سمیت دیگر اہم عہدیداران اور بعض طلباء و طالبات کے بیانات بھی قلمبند کرینگے۔ ادھر باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گرد حملے کے بعد قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی تفتیش جاری ہے۔ تھانہ سر ڈھیری کے حدود میں واقع دوسرو کے علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران9 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ حساس ادارے نے شبقدر کے علاقے میں بھی کارروائی کی اور4 افراد کو گرفتار کیا۔ دریں اثناء محکمہ انسداد دہشت گردی نے بنوں سے ایک دہشت گرد گرفتار کرلیا۔ دہشت گرد کے قبضے سے اسلحہ بھی بر آمد کرلیا گیا۔