کے الیکٹرک کو کنٹرول میں لینے کا کوئی منصوبہ نہیں، وزیر خزانہ سندھ

January 23, 2016 2:39 pm0 commentsViews: 33

اضافی بلاگ کرکے بجلی تقسیم کرنے والے ادارے ہمیں بلیک میل کرتے ہیں وہ اپنی چوری حکومت سندھ کے کھاتے میں ڈالتے ہیں
کول پاور پلانٹس عالمی بینک کے معیار کے مطابق نصب کئے جائیں گے، سندھ حکومت نے تحفظات مسترد کردیئے ،سندھ اسمبلی میں مراد علی شاہ کاخطاب
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سندھ حکومت نے ان تحفظات کو مسترد کردیا ہے کہ تھر میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں سے ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے‘ سندھ حکومت نے واضح کیا ہے کہ کول پاور پلانٹس عالمی بینک کے معیا کے مطابق نصب کئے جائیں گے‘ یہ بات جمعہ کو سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران کول پاور پلانٹس کے ماحولیات پر منفی اثرات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر صوبائی وزیر خزانہ و توانائی اور منصوبہ بندی و ترقیات سید مراد علی شاہ نے کہی‘ انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ کا کے الیکٹرک کو کنٹرول کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور نہ ہی حیسکو اور سیپکو کا انتظام سنبھالنے کا کوئی پروگرام ہے اگر مشترکہ مفاد کونسل نے یہ قرارداد صوبوں کو دینے کا فیصلہ کیا تو ہم اس حوالے سے منصوبہ بنائیں گے‘ ہم نے وفاقی حکومت کو لکھا ہے کہ سندھ حکومت کو کے الیکٹرک بورڈ میں نمائندگی دی جائے ‘ہم عوام کے مسائل حل کریں گے اور اگر کے الیکٹرک قوانین سے ہٹ کر کام کریگی تو اس کیخلاف کارروائی کریں گے‘ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اضافی بلنگ کرکے بجلی تقسیم کرنے والے ادارے ہمیں بلیک میل کرتے ہیں وہ اپنی چوری حکومت سندھ کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں ہم ان کی چوری کے پیسے نہیں دے سکتے‘ انہوں نے بتایا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے2014 ء میں وزیراعظم کو خط لکھا تھا کہ اگر وفاقی حکومت کے الیکٹرک‘ حیسکو اور سپیکو فروخت کرنا چاہتی ہے تو حکومت سندھ تینوں اداروں کو خریدنے کیلئے تیار ہے‘ مگر تاحال اس کا جواب نہیں دیا گیا۔