کراچی میں بس اڈوں پر آپریشن کا فیصلہ

January 25, 2016 2:35 pm0 commentsViews: 28

اندرون ملک سے اسلحہ منشیات اور دیگر سامان بسوں اور کوچز کے ذریعے لانے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائیگی، حکمت عملی تیار کی جارہی ہے
اندرون ملک چلنے والی بسوں کے کئی اڈوں کا کنٹرول کالعدم تنظیموں کے ہاتھ میں ہے، ان اڈوں سے حاصل ہونے والی آمدنی دہشت گردی کی وارداتوں میں استعمال کی جاتی ہے، بھاری تعداد میں اسلحہ بھی لایاجارہا ہے
انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹ کے بعد پولیس اور رینجرز اڈوں پر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث جرائم پیشہ عناصر اور کالعدم تنظیموں کے کارندوں کے خلاف بڑے آپریشن کے لیے تیاریاں شروع کردیں
کراچی( کرائم رپورٹر) بسوں اور کوچز کے ذریعے اندرون ملک سے بھاری تعداد میں اسلحہ گولہ بارود اور منشیات و دیگر سامان کراچی لائے جانے کے شواہد ملنے کے بعد پولیس اور رینجرز نے شہر میں بسوں اور کوچز کے اڈوں پر بڑے پیمانے پر آپریشن کی تیاریاں شروع کردی ہیں‘ کئی بس اڈے کالعدم تنظیموں کے کنٹرول میں ہیں اور ان اڈوں پر غیر قانونی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹ کے بعد انٹر سٹی بس اور کوچز کی تلاشی سخت کرنے اور بس اڈوں پر آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے‘ ذرئع کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹ ملی ہیں کہ اندرون ملک آنے اور جانے والے بسوں اور کوچز کے ذریعے اسمگلنگ میں تیزی آئی ہے‘ بھاری تعداد میں اسلحہ کے علاوہ چین‘ ایران‘ جاپان‘ جرمنی اور دیگر ممالک سے مختلف اشیاء بلوچستان کے راستے کراچی اور پھر کراچی سہراب گوٹھ سے اندرون ملک بھیجی جاتی ہیں‘ ذرائع نے بتایا کہ سہراب گوٹھ الآصف اسکوائر پر قائم کوچوں کے اڈوں کا رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے‘ ذرائع نے مزید بتایا کہ اڈوں پر کام کرنیوالوں کے اسمگلروں سے رابطے میں ہیں‘ اسمگلر اپنا سامان اڈے تک پہنچاتے ہیں جبکہ اسمگلروں کا سامان اڈے والے ان ک جگہ سے اپنی گاڑیوں کے ذریعے اٹھواتے ہیں‘ ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اندرون ملک جانیوالی بسوں کے متعدد ایسے اڈے ہیں جس کا کنٹرول کالعدم تنظیموں کے ہاتھ میں ہے اور اس کی آمدنی دہشت گردوں کیلئے استعمال کی جاتی ہے‘ ذرائع نے بتایا کہ اسمگلنگ کے سامان سے ہونیوالی آمدنی سے بلوچستان کے راستے ہتھیار بھی لائے جاتے ہیں‘ جو کراچی میں دہشت گردی میں استعمال ہوتے ہیں‘ شواہد ملنے کے بعد ان بس اڈوں کیخلاف بڑے آپریشن کیلئے تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔