سندھ اسمبلی کی پارکنگ کی تعمیر کیلئے سرکاری کوارٹرز مسمار کرنے پر احتجاج

January 25, 2016 2:55 pm0 commentsViews: 21

سرکاری کوارٹرز کے مکین دوسرے روز بھی بے سرو سامانی کے عالم میں حکومتی امداد کے منتظر رہے کوئی داد رسی کو نہیں آیا
تحریک انصاف کے حلیم عادل شیخ ،سیما ضیاء اور خرم شیرزمان نے موقع پر پہنچ کر متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی کے احاطے میں پارکنگ ایریا کی تعمیر کے باعث مسمار کئے جانے والے سرکاری کوارٹرز کے مکین دوسرے روز بھی بے سرو سامانی کے عالم میں حکومتی امدادکے منتظر رہے۔ دو روز گزر جانے کے باوجود کسی صوبائی وزیر یا سرکاری افسر متاثرین کی داد رسی کیلئے نہیں پہنچا۔ خواتین بچوں نے رات کھلے آسمان تلے گزاری، متاثرین کا احتجاج اتوا کو دوسرے روز بھی جاری رہا، متاثرین نے واضح کیا کہ اگر فوری طور پر ہمارا مسئلہ حل نہیں کیا گیا تو ہم بھوک ہڑتال شروع کر دیں گے۔سرکاری کوارٹرز کے مکینوں کے احتجاج کے باعث صرف3 کوارٹرز مسمار ہو سکے، مسمار کئے گئے کوارٹرز میں سرکاری ملازمین کے اہل خانہ رہائش پذیر تھے۔ ملازمین کے احتجاج کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ متاثرین میں خواتین، بچے نوجوان، بوڑھے اور مرد شامل ہیں۔ جو اپنے آشیانے کے سامان کے ہمراہ بے سرو سامانی کے عالم میں اپنے گرائے جانے والے کوارٹرز کے باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔ متاثرین سے ہمدردی اور اظہار یکجہتی کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ، ارکان سندھ اسمبلی ڈاکٹر سیماء ضیاء اور خرم شیر زمان اتوا رکو متاثرہ مقام پر پہنچے۔ پی ٹی آئی کے رہنما حلیم عادل شیخ کی جانب سے متاثرین کو عارضی رہائش کیلئے کاروان انصاف بس فراہم کی گئی ہے جس میں متاثرین کو کھانے اور دیگر عارضی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ خرم شیر زمان، سیماء ضیاء اور حلیم عادل شیخ نے کہا کہ حکومت سندھ بے حس ہو چکی ہے ایک جانب تھر پار کر میں بچے بھوک و افلاس سے مر رہے ہیں اور دوسری جانب حکومت کراچی میں سرکاری ملازمین سے آشیانہ چھین رہی ہے۔