الطاف حسین کی تقاریر اور تصاویر پر پابندی کیخلاف، ایم کیو ایم کا عوامی مظاہرہ، پابندی ختم کی جائے، متحدہ رہنمائوں کا مطالبہ

January 25, 2016 3:15 pm0 commentsViews: 25

اظہار رائے کی آزادی سلب کرکے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے، ایسا فیصلہ دنیا کی کسی عدالت نے نہیں دیا،ڈاکٹر فاروق ستار
الطاف حسین پر پابندی انقلاب کا پیش خیمہ ہوسکتی ، مظاہرے سے خواجہ اظہار ،فیصل سبزوای، مولانا تنویر الحق ،عباس کمیلی ودیگر کا خطاب
کراچی (اسٹاف رپورٹر) لاہورہائیکورٹ کی جانب سے قائدتحریک الطاف حسین کے خطابات،بیانات اور تصاویر پرمیڈیاپرعائدغیرفطری پابندی کے خلاف ایم کیوایم کے تحت اتوار24جنوری 2016ء کو کراچی میں مزار قائدایم اے جناح رودپربڑا عوامی مظاہرہ کیاگیاجس میں مختلف مذاہب،قومیتوںاورزبانبولنے والے لاکھوںعوام نے شرکت کی اورقائدتحریک الطاف حسین نے بھرپور اظہار یکجہتی کرتے ہوئے لاہورہائی کورٹ سے اپیل کی کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اورقائدتحریک الطاف حسین کے خطابات ،بیانات اور تصاویر کی میڈیاپرنشرپرعائدپابندی کوختم کریں۔ احتجاجی مظاہرے میںایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے سینئرڈپٹی کنوینرعامرخان کے ہمراہ سینٹرل ایگزیکٹوکونسل کے ارکان، ایم کیوایم کی جانب سے نامزدمیئرکراچی وسیم اختر،نامزدڈپٹی میئر ارشدوہرا اورحق پرست اراکین اسمبلی ، عوامی نمائندوں اور شعبہ جات کے ارکان نے خصوصی طورپرشرکت کی اورمظاہرے کی میزبانی کی فرائض انجام دیئے ۔مزار قائد پر الطاف حسین کی تحریر ، تقریر اور تصویر پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فارو ق ستار نے کہاکہ آئین پاکستان کی شق 19میں ملک کے ہر شہری کو اظہار رائے کی آزادی ہے ، ہماری اظہار رائے کی آزادی سلب کرکے ایک پاکستانی شہری کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے جو لاکھوں کروڑوں پاکستانیوں کے محبوب قائد ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات میں ملنے والا عوامی مینڈیٹ قائد تحریک الطاف حسین کا ہے ، عوام نے عدلیہ کے فیصلے کو نامنظور کرتے ہوئے آج فیصلہ دیدیا ہے کہ قائد تحریک کی تحریر ، تقریر اور تصویر پر پابندی کا فیصلہ غیر آئینی اور غیر انسانی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کا پہلا فیصلہ ہے جہاں عوام کی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے ، ایسا فیصلہ دنیا کی کسی عدالت نے نہیں دیا ہے۔ ایم کیوا یم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر شاہد پاشا نے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ لاہور ہائی کورٹ نے محض 15دن کیلئے الطاف حسین کی تقریر پر پابندی عائد کی تھی لیکن آج تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود یہ پابندی ختم نہیں کی گئی ۔ خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ الطاف حسین پر پابندی بھی ایک انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا ۔سندھ اسمبلی میں ایم کیوایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر فیصل سبزواری نے کہاکہ آج کا احتجاج خود کو روشن خیال اور پاکستان میں آئین و قانون کی حکمرانی کا دعویٰ کرنے والوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔معروف عالم دین مولانا تنویر الحق تھانوی نے الطاف حسین کی میڈیا کوریج پر پابندی کو سراسر غیر اسلامی اور غیر آئینی قرار دیا ۔ معروف شیعہ عالم دین علامہ عباس کمیلی نے کہاکہ حق پرست عوام نے مزار قائد پر جمع ہوکر اور الطاف حسین کی میڈیا پر کوریج پر عائد پابندی کے خلاف بھر پور احتجاج کرکے زندہ دلی کا ثبوت دیا ہے ۔