بلدیاتی اداروں کی ناقص کارکردگی، شہر قائد میں گندگی و غلاظت کے پہاڑ بن گئے

January 25, 2016 3:15 pm0 commentsViews: 180

کروڑوں روپے کی مبینہ بوگس کوٹیشنز کے ذریعے لوٹ مار کرنے والے ڈی ایم سی حکام نے وزیر بلدیات کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کے احکامات بھی ماننے سے انکار کردیا
کرپٹ افسران جیبیں بھرنے میں مصروف، بدترین کارکردگی پر شہریوں نے کچرا جلائو مہم شروع کردی، وزیر بلدیات کی خاموشی، شہریوں کی جانیں خطرے میں پڑگئیں
کراچی( سٹی رپورٹر)شہر قائد میں صحت و صفائی کی ابتر صورتحال ،بلدیاتی اداروں کے نا اہل افسران کی ناقص کاکردگی نے شہریوںکی صحت کو خطرات میں ڈال دیا، سندھ حکومت کا صفائی مہم شروع کرنے کا اعلان مذاق بن کر رہ گیا،شہر قائدمیں گندگی وغلا ظت کے پہاڑ بن گئے،ماہانہ کروڑوں روپے کی مبینہ بوگس کوٹیشنز کے ذریعے لوٹ مار کرنے والے ڈی ایم سی حکام نے وزیر بلدیات کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ کے احکامات بھی ماننے سے انکار کردیا،کرپٹ افسران جیبیں بھرنے میں مصروف،بدترین کار کردگی پر شہریوں نے کچرا جلائو مہم شروع کردی، اٹھنے والے دھویںسے سانس کی بیماریاں جنم لینے لگیں،بلند وبانگ دعوئے کرنے والے وزیر بلدیات مکمل طور پر خاموش،وزیر اعلیٰ سندھ کا الٹی میٹم بھی کام نہ آسکا،شہری سخت اذیت سے دوچار،نااہل ڈی ایم سیز ایڈ منسٹریٹرز کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق کراچی کی چھ ڈی ایم سیز میں تعینات ایڈ منسٹریٹرز اور دیگر افسران نے وزیر بلدیات کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ کے احکامات کو بھی ردی کی نذر کردیا ہے جس کے باعث تمام تر اعلانات کے باوجود شہر میں خصوصی صفائی مہم تو درکنا یومیہ صفائی کے امور بھی بند پڑے ہوئے ہیں ،ذرائع کا کہنا ہے کہ صفائی ستھرائی کے نام پر ماہانہ کروڑوں روپے کا پیٹرول وڈیزل تو پابندی سے وصول کیا جارہا ہے تاہم مذکورہ رقم مبینہ طور پر ہڑپ کی جارہی ہے جس کے باعث شہر میں گندی وغلا ظت کے پہاڑ بن گئے ہیں اور ان سے اٹھنے والے سخت تعفن سے شہریوں کا جینا محال ہوکر رہ گیا ہے،شہر میں کچھ ہفتے قبل وزیر بلدیات جام خان شورو نے صفائی مہم کا اعلان کیا اور شہر کے چند علاقوں کا نمائشی دورہ کر کے چلے گئے جس پر صفائی شروع کرنے کے ڈی ایم سیز کی جانب سے بیانات تو جاری کئے گئے تاہم عملی اقدامات صفر رہے جس کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ میدان میں آگئے اور شہر میں صفائی ستھرائی کی بدترین صورتحال پر برہمی کا اظہار کیا اور افسران کو فوری صفائی ستھرائی کے امور انجام دینے کیلئے الٹی میٹم بھی دیدیا تاہم سندھ حکومت کے مذکورہ دونوں حکام کے احکامات کو ڈی ایم سیز میں تعینات نااہل افسران نے ردی کی نذر کرکے رکھ دیا اور شہر میں تاحال نہ ہی خصوصی صفائی مہم شروع ہوسکی اور نہ ہی یومیہ کی صفائی کے امور انجام دیئے جارہے ہیں۔