ملازمت میں توسیع پر یقین نہیں رکھتا مقررہ وقت پر ریٹائر ہوجائوں گا، راحیل شریف

January 26, 2016 1:44 pm0 commentsViews: 28

پاک فوج ایک عظیم ادارہ ہے، ملک کے قومی مفاد کا ہر صورت تحفظ کیاجائے گا
فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد بھی اس ادارے کی خدمت کرتا رہوں گا، آرمی چیف
میرے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ دنیا کی سب سے بہادر فوج کی قیادت کی ہے
راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دہشت گردوں کے خلاف ایکشن جاری رہے گا
جنرل راحیل شریف مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے دلچسپی نہیں رکھتے، آئی ایس پی آر
راولپنڈی( نیوز ڈیسک) چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے مدت ملازمت میں توسیع کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج ایک عظیم ادارہ ہے اور میں مدت ملازمت میں توسیع پر یقین نہیں رکھتا‘مقررہ وقت پر ریٹائر ہوجائوں گا جب کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کوششیں پورے عزم و استقلال کے ساتھ جاری رہیں گی‘ یاد رہے کہ جنرل راحیل پاکستان کی بری فوج کے15 ویں سربراہ ہیں‘ انہوں نے29نومبر2013ء کو پاک فوج کی کمان سنبھال لی تھی اور ان کی مدت ملازمت رواںبرس 28 نومبر کو ختم ہورہی ہے‘ یہ بات اہم ہے کہ ان سے قبل پاکستان کے دو فوجی سربراہوں نے اپنی مدت ملازمت کی تکمیل پر سبکدش ہونے کے بجائے اس میں توسیع کروائی تھی‘ پاکستانی میڈیا پر چہ مگوئیاں کی جارہی تھیں کہ ممکنہ طور پر ماضی میں فوجی سرعراہان کی طرح جنرل راحیل بھی اپنی مدت ملازمت میں توسیع کرواسکتے ہیں‘ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر)کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری ہونیوالے بیان کے مطابق آرمی چیف کا کہنا ہے کہ پاکستان کا قومی مفاد مقدم ہے جس کا تحفظ بہر صورت یقینی بنایا جائیگا‘ بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ جنرل راحیل مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے دلچسپی نہیں رکھتے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد بھی اس ادارے کی خدمت کرتے رہیں گے‘ آرمی چیف کا کہنا ہے کہ میرے لئے یہ بات باعث فخر ہے کہ میں نے دنیا کی سب سے بہادر فوج کی قیادت کی‘ جنرل راحیل شریف کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دہشت گردوں کیخلاف پاک فوج کی کارروائیاں پوری شدت سے جاری رہیں گی اور ان میں کوئی کمی نہیں آئیگی۔

سیاستدان کہتے ہیں یہ کیسا جنرل ہے جو ہر جگہ پہنچ جاتا ہے

راحیل شریف نے اپنے آپ کو بڑے محتاط انداز میں قیاس آرائیوں سے نکال لیا
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف کی توسیع کے بارے میں قیاس آرائیاں اس لئے کی گئیں تا کہ آپریشن ضرب عضب کو متنازعہ بنایا جا سکے۔ آرمی چیف نے اپنے آپ کو گنے چنے اندازمیں قیاس آرائیوں سے نکال لیا ہے۔ سیاسی قیادت اب سوچے گی، کہ نہ تو دھرنے کے دوران مارشل لاء لگا، اور نہ ہی ہماری چھوڑی گئی اندیشہ ہائے دور درازیاں کام آئیں۔ لیکن یہ کیسا جنرل ہے کہ ہر دھماکے والی جگہ دفاعی فرنٹ لائن پر ہم سے پہلے پہنچ جاتا ہے اور بیرونی دوروں میں بھی اس نے ہماری پذیرائی کو مات دے ڈالی ہے۔

آرمی چیف اپنا فیصلہ تبدیل کرسکتے ہیں، بی بی سی
حکمران جماعت کی جانب سے راحیل شریف کو ملازمت میں توسیع کیلئے ایک سال کی پیشکش کی گئی تھی، عارف نظامی کا انکشاف
جنرل صاحب کی ریٹائرمنٹ میں ابھی بہت وقت باقی ہے، حالات تبدیل ہوئے تو ان کا فیصلہ بھی بدل سکتا ہے، تجزیہ کاروں کی رائے
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے پیر کو ملازمت میں توسیع نہ لینے کااعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ توسیع پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کا یہ بیان جہاں حیران کن ہے وہیں بہت سے حلقے اس کا خیر مقدم بھی کر رہے ہیں مگر کچھ تجزیہ نگاروں اور سیاست دانوں کا یہ بھی خیال ہے کہ جنرل صاحب کی ریٹائرمنٹ میں ابھی وقت باقی ہے اور حالات تبدیل ہوئے تو ان کا فیصلہ بدلہ بھی سکتا ہے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے رکن سابق فوجی جنرل عبدالقیوم نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ راحیل شریف ایک سولجر ہیں انہیں پتہ ہے کہ مدمت ملازمت تین سال ہے وہ باتیں کم اور کام زیادہ کرتے ہیں بی بی سی پر پروگراموں میں اس پر زیادہ بات چیت ہوئی۔ ایسے میں یہ بھی کہا جانے لگا کہ کہیں یہ باتیں فوج ہی تو نہیں کر وا رہی۔ دوسری جانب پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی کی جانب سے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔ عارف نظامی کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت کی سینئر قیادت کے تین اہم نام اس بات چیت میں شامل تھے اور ملازمت میں توسیع کے لئے ایک سال کی پیشکش شامل تھی سینئر صحافی اور کالم نگار ایاز امیر کے خیال میں آرمی چیف نے یہ بیان اس لئے دیا ہے تا کہ حکومت کوئی سیاست نہ کر سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں آرمی چیف کو ملازمت میں توسیع دینے کی غلط روایت جنرل ایوب کے دور میں پڑی اور پھر جنرل ضیاء الحق نے ساڑھے گیارہ سال تک اقتدار میں رہ کر مزید بیڑہ غرق کر دیا۔

آرمی چیف کے بیان کی ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں نمایاں کوریج
اسلام آباد( آن لائن) آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کی خبر کو ملکی اور غیر ملکی میڈیا نے بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم سلیم باجوہ کے ٹویٹ کے بعد ملکی اور غیر ملکی میڈیا چینل پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد ریٹائرڈ ہونے کی خبر کو بریکنگ نیوز کے طور پر مسلسل نشر کرتے ہوئے پاکستان کے تمام ٹی وی چینلوں نے پورا پورا نیوز بلیٹن اس خبر پر جاری رکھا۔

جنرل راحیل کے فیصلے پر سیاست خوش ، عوام غمگین ہوگئے
فیصلہ واپس لیا جائے جنرل راحیل کی قیادت میں ملک ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کر رہا ہے، عوامی رائے
2016ء جنرل راحیل حکومت کی عزت میں مزید اضافے کا سال ثابت ہوگا، ماہرین علوم نجوم
راحیل شریف ایسے جرنیل کے طور پر سامنے آئے ہیں جن کی تصاویر عوام نے گھروں میں آویزاں کر رکھی ہیں
قوم کو دہشت گردوں کے عقاب سے بچانے کیلئے راحیل شریف نے بروقت فیصلے کیے ہیں
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف سے مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کے فیصلے پر سیاسی حلقوں میں خوشی لیکن عوامی سطح پر اس فیصلے پر غم کا اظہار کیا جا رہا ہے عوام کی بڑی تعداد نے جنرل راحیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لیں کیونکہ ان کی قیادت میں پاکستان ترقی کی نئی منازل طے کر رہا ہے اور معاشرے سے کرپشن اور دہشت گردی کا خاتمہ ہورہا ہے علم نجوم کے ماہرین نے کہا کہ رواں سال جنرل راحیل شریف کی عزت میں مزید اضافے کا سال ثابت ہوگا، وہ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے جیسے سینکڑوں افسران پاک فوج میں چھوڑ جائیں گے۔ جنرل راحیل شریف کی جانب سے مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کے فیصلے پر عام شہریوں کا موقف ہے کہ جنرل ایوب خان کے بعد جنرل راحیل شریف ایسے جرنیل کے طور پر سامنے آئے کہ عوام نے گھروِں، دفاتر، ٹرانسپورٹ اور عوامی مقامات پر ان کے پورٹریٹ آویزاں کئے ان کی کامیابی کیلئے دعائیں کیں کیونکہ جنرل راحیل شریف نے نہ صرف دہشت گردوں کے عتاب سے قوم کو بچانے کیلئے اہم اور بروقت فیصلے کئے بلکہ غیر ملکی محاذ پر بھی ملک دشمن قوتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی، بعض سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ جنرل راحیل شریف مدت ملازمت میں توسیع نہیں لیں گے لیکن کچھ سیاستدان خوامخواہ خوفزدہ تھے ان سے پہلے جنرل وحید کاکڑ نے بھی توسیع نہ کرکے اپنی عزت میں اضافہ کیا لیکن ان کو وہ کامیابی نہ ملیں جو جنرل راحیل شریف کے حصے میں آئی۔