ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی سازش کا علم نہیں تھا، معظم علی کا تفتیشی ٹیم کو بیان

January 26, 2016 1:53 pm0 commentsViews: 22

ملزم خالد شمیم نے محسن کو برطانیہ بھجوانے کیلئے 17لاکھ روپے ادھار لئے ،ادائیگی ٹریول ایجنٹ کو چیک کی صورت میں کی گئی
اب تک کی تفتیش کے دوران ملزم معظم علی کے قتل میں براہ راست ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے ہیں، تفتیشی ذرائع
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار ملزم نے اہم انکشاف کیا ہے۔ ملزم خالد شمیم نے محسن کو برطانیہ بھجوانے کیلئے17 لاکھ روپے ادھار لئے۔ خالد شمیم کے کہنے پر رقم کی ادائیگی چیک کی صورت میں ٹریول ایجنٹ کو دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں ملزموں کے انکشاف کا سلسلہ جاری ہے۔ ایف آئی اے کائونٹر ٹیررازم ونگ کے پاس جسمانی ریمانڈ پر ملزم معظم علی، نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ اسے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی سازش کا علم نہیں تھا۔ ملزم معظم نے اپنے بیان میں تفتیشی ٹیم کو بتایا کہ خالد شمیم ملازمت کی غرض سے آیا تھا، اسے اپنی کمپنی میں ملازم رکھا اور وہ تنخواہ بھی لیتا رہا۔ ذرائع کے مطابق معظم علی نے انکشاف کیا ہے کہ خالد شمیم ملزم محسن علی کو اس کے پاس لے کر آیا اور کہا محسن ایک ذہین طالب علم ہے، اعلیٰ تعلیم کیلئے برطانیہ جانا چاہتا ہے لیکن اس کے پاس بیرون ملک جانے کے وسائل نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ معظم علی نے خالد شمیم کے کہنے پر 17 لاکھ روپے کراچی کے ایک ٹریول ایجنٹ سید باقر مہدی کو دئے جس نے ملزم محسن علی سید کے ویزے اور ٹکٹ کا بندوبست کیا۔ ملزم معظم علی نے تفتیشی ٹیم کو بتایا کہ وہ اس سے قبل بھی مستحق طالب علموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔ اسے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی سازش کا ہر گز علم نہیں تھا۔ محسن علی پر ترس کھا کر17 لاکھ روپے ادھا دئیے اور ویزے کے لئے ضروری دستاویزات کی تیاری میں مدد کی۔ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک کی تفتیش میں ملزم معظم علی کے قتل کیس میں براہ راست ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے تاہم کیس کی مختلف پہلوئوں سے تفتیش جاری ہے۔