غیر قانونی بچت بازاروں کے خاتمے کیلئے گرینڈ آپریشن کی تیاریاں

January 26, 2016 2:24 pm0 commentsViews: 28

شہر کے کھیل کود کے میدانوں، سروس روڈ سمیت دیگر مقامات پر مافیا نے غیر قانونی بچت بازار قائم کررکھے ہیں، انتظامیہ اور پولیس کی پراسرار خاموشی
میٹروپولیٹن کمشنر نے این او سی کے بغیر چلنے والے بچت بازاروں کو غیرقانونی قرار دیدیا، انتظامیہ اور دیگر اداروں کو خطو ط جاری، بلدیہ کراچی کو کروڑوں کا نقصان ہورہا ہے، سمیع صدیقی
کراچی(رپورٹ/فرید عالم)بلدیہ عظمیٰ غیر قانونی بازاروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ ،ڈی ایم سیز اور بیورو آف سپلائی کی این او سی سے لگائے گئے تمام بچت بازار غیر قانونی قرار دے دیئے گئے،بلدیہ عظمی کراچی کا اپنی اراضی پر بڑے پیمانے پر لگائے جانے والے بچت بازاروں کو غیر قانونی قرار دے کر اپنی اراضی کو واگزار کرانے کا فیصلہ،میٹروپولیٹن کمشنر نے تمام ڈپٹی کمشنرز،ڈی ایم سی ایڈ منسٹریٹرز اور محکمہ بیوروآف سپلائی کو خطوط ارسال کردیئے،بلدیہ کراچی کی اراضی پر میٹروپولیٹن کمشنر کی منظوری کے بغیر این او سیز جاری نہ کرنے کی ہدایت۔تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں بچت بازار مافیا نے مبینہ بھاری نزرانوں کے عوضبلدیہ کراچی کی اراضی پر دیگر اداروں سے این اوسیز حاصل کر کے تیزی سے بچت بازار قائم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے جس کے باعث شہر کے کھیل کود کے میدان،سروس روڈز سمیت دیگر مقامات پر بچت بازاروں کی بھرمار کر دی گئی ہے،بلدیہ کراچی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بچت بازار مافیا نے بازار لگانے کیلئے ڈپٹی کمشنرز،ڈی ایم سیز اور محکمہ بیوروآف سپلائی سے این او سیز حاصل کرنا شروع کردیا ہے اور شہر میں بیشتر بازار بلدیہ کراچی کی اراضی پر قائم ہیں جس کی منظوری بلدیہ عظمیٰ کراچی سے حاصل نہیں کی گئی تاہم اس کے باوجود شہری انتظامیہ پولیس سمیت محکمہ بیوروآف سپلائی کے حکام نے پر اسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے،ذرائع کے مطابق شہر میں سینکڑوں کی تعداد میں بچت بازار قائم کر دیئے گئے ہیں ۔۔اس حوالے سے ایڈ منسٹریٹر کراچی کی منظوری سے میٹروپولیٹن کمشنر سمیع الدین صدیقی نے ایسے تمام بازار جو کہ بلدیہ کراچی کی اراضی پر بلدیہ کی این او سی کے بغیر لگائے جارہے ہیں انہیں غیر قانونی قرار دیدیا ہے اور اس حوالے سے ڈی ایم سی حکام ،ڈپٹی کمشنرز اور محکمہ بیوروآف سپلائی کو بھی خطوط ارسال کئے جارہے ہیں جس میں آگاہ کیا گیا ہے کہ بلدیہ کراچی کی این او سی کے بغیر بلدیہ کی اراضی پر این او سیز جاری کرنے سے گریز کیا جائے،ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں لگنے والے غیرقانونی بچت بازاروں سے بلدیہ کراچی کو ریونیو کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔