سندھ اسمبلی، قراردادپیش کرنے سے روکنے پر ایم کیو ایم کا واک آئوٹ

January 26, 2016 2:33 pm0 commentsViews: 23

الطاف حسین پر میڈیا میں پابندی کا معاملہ عدالت میں ہے، نثار کھوڑو، وفاق سے رابطہ کریں، اسپیکر کا جواب
کراچی (اسٹاف رپورٹر ) متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) نے پیر کو سندھ اسمبلی میں اپنے قائد الطاف حسین پر میڈیا میں پابندی کے خلاف قرار داد پیش کرنا چاہی لیکن حکومت کی طرف سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے ۔ لہٰذاقرار داد پیش نہیں ہو سکتی ۔ ایم کیو ایم کے ارکان سندھ اسمبلی نے اپنے قائد سے اظہار یکجہتی کے لیے سندھ اسمبلی کے اجلاس سے علامتی واک آؤٹ بھی کیا ۔ قرار داد ایم کیو ایم کے رکن محمد حسین خان پیش کرنا چاہتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین پر میڈیا میں پابندی آئین کی خلاف ورزی ہے ۔ آئین نے تحریر و تقریر اور آزادی اظہار رائے کا حق دیا ہے ۔ کروڑوں لوگ الطاف حسین کی تقاریر سننا چاہتے ہیں ۔ الطاف حسین کے بیانات دہشت گردوں اور پاکستان کے دشمنوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنی پوزیشن واضح کرے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے اس معاملے پر احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس کے سندھ پر اثرات پڑ سکتے ہیں ۔ لہٰذا ہم سندھ اسمبلی میں قرار داد پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت کسی کی اظہار رائے کی آزادی کو دبایا نہیں جا سکتا ۔ حکومت کو یہ اختیار ہے کہ وہ کچھ معاملات پر کسی کو بیان بازی سے روک سکتی ہے ۔ عدالت کو ایسا کرنے کا اختیار نہیں ہے ۔ سینئر وزیر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے ۔ آغا سراج درانی نے کہا کہ میری تجویز یہ ہے کہ ایم کیو ایم وفاق سے رجوع کرے یا اس عدالت میں جائے ، جہاں کیس چل رہا ہے ۔ اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ ہم اپنے قائد سے یکجہتی کے اظہار کے لیے واک آؤٹ کرتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ایم کیو ایم کے ارکان ایوان سے باہر چلے گئے اور تھوڑی دیر بعد واپس آ گئے ۔