رینجرز کی واپسی یا سندھ حکومت کی رخصتی ۔ 48 گھنٹوں میں اہم فیصلوں کا امکان

January 28, 2016 12:06 pm0 commentsViews: 27

ایکشن پلان اور کراچی آپریشن کے حوالے سے اہم فیصلوں کا وقت قریب آگیا، کراچی میں کورکمانڈر کانفرنس بہت اہم ہے، کامران خان
سندھ حکومت کے بارے میں سیکورٹی اداروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے، پراسیکیوٹر کا تقرر نہ ہونے کی وجہ سے200 سے زائد دہشت گرد ضمانتوں پر رہا ہو چکے ہیں، اس حوالے سے ایک تنائو کا ماحول بن رہا ہے، تجزیہ کار
کراچی کے آپریشن کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور نہ کی گئیں تو رینجرز سندھ سے واپس چلی جائے گی، مقتدرہ قوتوں نے فیصلہ کرلیا تو پھر سندھ حکومت کو رخصت ہونا پڑے گا، سابق کور کمانڈر کی نجی ٹی وی سے بات چیت
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ حکومت کی رخصتی کے خطرات پیدا ہوگئے ہیں مقتدرہ حلقوں نے فیصلہ کرلیا تو سندھ حکومت رخصت ہو سکتی ہے، تجزیہ کار کامران خان کے مطابق ایکشن پلان کراچی آپریشن کے حوالے سے48 گھنٹے انتہائی اہم ہیں انتہائی با خبر ذرائع کے مطابق48 گھنٹوں میں انتہائی نازک فیصلے سامنے آسکتے ہیں۔ کراچی میں آپریشن کی راہ میں حائل رکاوٹیں ہٹائی گئیں تو رینجرز واپس چلی جائیگی۔ دوسرا آپریشن سندھ حکومت کی رخصتی ہو سکتا ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کراچی پہنچے اور کور ہیڈ کوارٹرز میں5 گھنٹے سے زائد اہم اجلاس کی صدارت کی جو کراچی آپریشن کے حوالے سے طویل اجلاس تھا۔ اجلاس کا مرکز و محور کراچی آپریشن اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹیں تھا۔ نازک فیصلوں کا دن قریب ہے، ڈی جی رینجرز نے آرمی چیف کو آپریشن کی راہ میں رکاوٹوں کے بارے میں بریفنگ دی اور ان کو بتایا کہ جے آئی ٹی نہیں بن رہی۔ پراسیکیوٹرز کا تقرر نہیں ہو رہا ہے، 200 سے زائد دہشت گرد ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔ اور اس حوالے سے ایک تنائو کا ماحول بن رہا ہے، ذرائع نے بتایا کہ اب اسلام آباد کی جانب رخ ہوگا، وزیر اعظم نواز شریف اپنے بیرون ملک دورے کے بعد واپس آچکے ہیں اور کل جمعہ کے روز اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوگا جس میں موجودہ صورتحال کے حوالے سے اہم فیصلوں کا امکان ہے۔ نازک فیصلوں کا وقت آگیا ہے نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل نہیں ہو رہا۔ فوج اس معاملے پر کور کمانڈرز کے اجلاس کے ذریعے شکایت بھی کر چکی ہے، اس وقت فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق سندھ حکومت کے بارے میں سیکورٹی اداروں کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے اور اس کا اظہار وزیر اعظم کی میٹنگ میں بھی ہوگا۔ وزیر اعظم سندھ حکومت کو براہ راست ان رکاوٹوں کو دور کرنے کی ہدایت کریں گے اگر سندھ حکومت جے آئی ٹی نہیں بناتی، رینجرز کو اختیارات تفویض نہیں کرتی تو عین ممکن ہے کہ وزیر اعظم راست اقدام کا فیصلہ کریں۔ جس کے نتیجے میں سندھ حکومت رخصت ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ دوسری صورتحال بھی سنگین ہے الطاف حسین کی تقاریر پر میڈیا میں پابندی ہے لیکن ان کی تقاریر کارکنوں کیلئے سامنے آرہی ہے اور ان تقاریر میں وہ فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے زبان اور کلمات استعمال کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے بڑی مشکل اور کٹھن صورتحال پیدا ہو رہی ہے وہ جو باتیں کر رہے ہیں وہ کسی طور قابل قبول نہیں ہیں، اس صورتحال میں ذرائع نے بتایا کہ آئندہ 48 گھنٹے بہت اہم ہونگے اور انتہائی اہم اورنازک فیصلے سامنے آئینگے۔ اس حوالے سے سابق کور کمانڈرو سابق ڈی جی ایف سی بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل ( ر) سلیم نواز نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان دیکھیں تو ایک قسم کا مذاق دکھائی دیتا ہے۔ فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں اپنا کام تن دہی کے ساتھ کر رہی ہیں لیکن ان کی سپورٹ کیلئے باقی کی کارروائی نہیں کی گئی اور نیشنل ایکشن پلان کے20 نکات پر بہت کم عمل ہو رہا ہے انہوں نے بتایا کہ کتنی ہی کالعدم تنظیمیں موجود ہیں جو نام تبدیل کرکے کام کر رہی ہیں، کتنے مقدمات ہیں جن پر عمل نہیں ہو رہا، جن پر شنوائی نہیں ہو رہی، رینجرز کے اختیارات مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف کے ماتحت کام کیا ہے ان کی شخصیت کو اچھی طرح جانتا ہوں جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں، اب وقت آگیا ہے، اس سے زیادہ انتظار نہیں کیا جاسکتا۔ مقتدرہ حلقوں نے فیصلہ کرلیا تو سندھ حکومت کو رخصت ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کی راہ میں جو رکاوٹیں ہیں انہیں کسی طور پر بھی بلڈوز کرنا پڑیگا۔