پنجاب سے ملاوٹ والے آٹے کی سندھ میں آمد نہیں روک سکتے، وزیر خوراک

January 28, 2016 12:38 pm0 commentsViews: 34

گندم کی آمدورفت روکنا چاہتے ہیں لیکن ایسا کوئی قانون موجود نہیں، آئندہ خریداری میں اضافہ کرینگے
قرضے لیکر گندم خریدی جاتی ہے، جس پر حکومت سبسڈی دیتی ہے، کم از کم سود کی ادائیگی کی وجہ سے جلد قرضے واپس کرنے ہیں، ناصر حسین شاہ
کراچی( اسٹاف رپورٹر) وزیر خوراک سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ ہم پنجاب سے سندھ میں گندم کی آمدورفت روکنا چاہتے ہیںلیکن ایسا کوئی قانون نہیں ہے۔ پنجاب سے چاول ملا آٹا آرہا ہے، اس پر ہم بھی کارروائی نہیں کرسکتے۔ اس حوالے سے قانون سازی ہونی چاہیے۔ آئندہ فصل پر گندم کی خریداری کے ہدف میں اضافہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ وہ بدھ کو سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران متعدد ارکان کے تحریری اور ضمنی سوالات کے جوابات دے رہے تھے۔ وزیر خوراک نے بتایا کہ پہلے سرکاری گوداموں میں5 لاکھ 75 میٹرک ٹن گندم ذخیرہ کرنے کی گنجائش تھی، جبکہ81 ہزار760 میٹرک ٹن گندم پرائیویٹ گوداموں میں محفوظ کی جاتی تھی۔ رواں سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں نئے گوداموں اور پلیٹ فارم تعمیر کرنے کی اسکیمیں شامل ہیں۔ سندھ حکومت کے پاس اتنے گودام موجود ہیں، جن میں ہم اپنی سالانہ ضرورت کی گندم ذخیرہ کرسکتے ہیں۔ اضافی گندم کے لئے مزید گوداموں اور پلیٹ فارم تعمیر کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں سے قرضہ لے کر گندم خرید کی جاتی ہے۔ حکومت سبسڈی فراہم کرتی ہے۔ حکومت بینکوں کو جلد سے جلد قرضہ واپس کرتی ہے تاکہ سود کم سے کم ادا کرنا پڑے۔2008-09 کی فصل پر 12 لاکھ 24 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدی گئی تھی اور بینکوں سے29 ارب10 کروڑ روپے قرضہ حاصل کیا گیا تھا۔