ٹیکسٹائل سیکٹر تباہی کے دھانے پرپہنچ گیا ،قائمہ کمیٹی برائے قومی اسمبلی

January 28, 2016 12:43 pm0 commentsViews: 22

وزیراعظم نوٹس لیں ،اسحاق ڈار خود کو عقل قل سمجھتے ہیں، کوئی بات نہیں سنتے، خواجہ غلام کوریجہ ،رشید گوڈیل کا خطاب
ٹیکسٹائل سیکٹر کے صنعت کا روں کو ریفنڈ دیا جائے، گیس ،بجلی اور پانی کے نرخ کوسارک ممالک کے برابر لایا جائے، جاوید بلوانی، زبیر موتی والا
کراچی( اسٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے چیئر مین خواجہ غلام رسول کوریجہ نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کا اہم سیکٹر تباہی کے دھانے پر پہنچ گیا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار فوری طور پر نوٹس لیں۔ اگر وفاقی حکومت ٹیکسٹائل سیکٹر سے وابستہ صنعت کاروں اور تاجروں کے مسائل حل نہ کر سکی اور ان کے مطالبات نہ مانے تو پھر عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان ہوزری مینو فیکچرز ایسوسی ایشن کے آفس میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے اجلاس اور صنعت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ صنعت کاروں کے ریفنڈ، گیس، بجلی اور پانی سمیت دیگر مسائل حل اور مطالبات کو ماننا ہوگا، ورنہ پھر ٹیکسٹائل سیکٹر کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا، اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی رشید گوڈیل نے کہاکہ ٹیکسٹائل سیکٹر کے مسائل حل کرے حکومت کی ذمہ داری ہے مگر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اپنے آپ کو عقل کُل سمجھتے ہیں اور وہ کسی کی بات نہیں سنتے۔ اجلاس میں ارکان کمیٹی نے کہا کہ پاکستان میں صنعت کاروں اور تاجروں کو گیس اور بجلی کے نرخ سارک ممالک کے برابر کئے جائیں۔ حکومت کو ٹیکسٹائل سیکٹر کے مسائل ہمدردی کے ساتھ حل کرنا ہوں گے۔ اس موقع پر ارکان قومی اسمبلی سردار محمد شفقت حیات خان، رانا عمر نذیر خان، حاجی محمد اکرام انصاری، میاں مشاہد حسین خان بھٹی، ملک شاکر بشیر اعوان، مس رومانہ خورشید عالم نے بھی خطاب کیا انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو تباہی سے بچانے کیلئے ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے عملی اقدامات کرنا ہونگے۔ اس موقع پر پاکستان ہوزری مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے ساتھ صدر جاوید بلوانی، زبیر موتی والا و دیگر صنعتکاروں نے کہا کہ گیس، بجلی اور پانی کے نرخوں میں اضافے ریفنڈ نہ ملنے اور ٹیکسوں کے بوجھ نے ٹیکسٹائل سیکٹر کو تباہی سے دو چار کردیا۔ ہم حکومت سے مسائل کے حل کیلئے بار بار مطالبات کرتے ہیں، لیکن کوئی سننے کو تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی عدم توجہی کے باعث پاکستانی صنعت کار بنگلہ دیش، دبئی و دیگر ممالک کا رخ کر رہے ہیں ٹیکسٹائل ملز بند ہونے کے خدشات اب بھی موجود ہیں۔