ملیر میں پانی کا بحران، زمینی بور ناکارہ، اربوں روپے ڈوب گئے

January 29, 2016 5:30 pm0 commentsViews: 48

پانی کڑوا، لیبارٹری ٹیسٹ میں پانی پینے سے ہیپاٹائٹس و دیگر خطرناک امراض ہونے کی رپورٹ جاری، عوام خوف زدہ
کراچی (اسٹاف رپورٹر)ملیر میں پانی کی فراہمی کے زمینی بور ناکارہ ہوگئے، پانی کڑوا اور مضر صحت قرار، اربوں روپے ڈوب گئے، لیبارٹری ٹیسٹ میں پانی پینے سے ہیپاٹائیٹس ودیگر خطرناک امراض ہونے کی رپورٹ جاری، علاقہ مکینوں میں شدید تشویش، خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی، گڈاپ کے 100 سے زائد گوٹھوں کیلئے18 انچ کے پبلک واٹر سپلائی اسکیم 9 سال گذرنے کے باوجود مکمل نہ ہوسکی، بجلی اور آئل کا خرچہ مسئلہ بن گیا، حکومت کو فوری اقدامات کر کے انسانی جانوں کا تحفظ اور پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیئے اقدامات کرنے چاہئیں علاقہ مکین تفصیلات کے مطابق ماضی کا پرفضا اور سر سبز علاقہ ملیر پانی کی قلت اور مختلف بیماریوں کے باعث موت کی وادی بن کر رہ گیا ہے، چند سال قبل صرف 5 فوٹ کھدائی کی زمین پر ملنے والا تازہ اور میٹھا پانی ریتی بجری کے بڑے پیمانے پر چوری کے باعث اب نہ صرف زمین کی 150 سے 300 فوٹ کی کھدائی پانی مشکل ہوگئی لیکن اتنی گہرائی کے بعد ملنے والا پانی کڑا اور مضر صحت قرار دے دیا گیا ہے، یہ لرزہ دینے والا انکشاف اس وقت سامنے آیا ہے جب گڈاپ کے مختلف علاقوں کے زمینی بور سے حاصل کردہ پانی کو لیبارٹری میں ٹیسٹ کروایا گیا جہاں سے رپورٹ جاری کی گئی ہے کہ زمینی بور کا پانی کڑوا ہے جو پینے کے قابل نہیں اگر یہ پانی پینے کے لئے استعمال کیا گیا تو لوگ ہیپاٹائیٹس سمیت دیگر خطرناک امراض میں مبتلا ہوجائیں گے، ایسی رپورٹ آنے کے بعد گڈاپ میں 3000 سے زائد زمینی بور پانی حاصل کرنے والے سیکڑوں گوٹھوں کے مکین شدید تشویش کے باعث خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے ہیں۔