سندھ اسمبلی، اپوزیشن نے حکومت سندھ کو تھر کی صورتحال کا ذمہ دار قرار دیدیا

January 30, 2016 4:09 pm0 commentsViews: 34

سندھ حکومت تھر میں بچوں کی اموات روکنے کیلئے ممکنہ اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے، ہلاکتوں کاروزانہ نیا سبب بیان کیا جاتا ہے
تھر کی صورتحال کے حوالے سے غلط اعدادو شمار دیئے جارہے ہیں حقائق کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی بنائی جائے، اپوزیشن کا مطالبہ
سندھ اسمبلی کے اجلاس میں فنکشنل لیگ ،ایم کیو ایم، تحریک انصاف کے اراکین نے تھر میں صورتحال بہتر نہ بنانے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی میں جمعہ کو سرا ایجنڈا موخر کرکے تھر کی صورتحال پر بحث کی گئی‘ اپوزیشن ارکان نے حکومت کو تھر صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ بچوں کی اموات کو روکنے کیلئے ممکنہ اقدامات کرنے میں حکومت ناکام رہی ہے‘ بچوں کی ہلاکتوں کا روزانہ نیا سبب بیان کیا جاتا ہے‘ وزیراعلیٰ سندھ کہتے ہیں کہ دائیوں کے ذریعے زچگی کی وجہ سے یہ اموات ہوئی ہیں‘ وزیراعلیٰ سندھ کو اس پر معافی مانگنی چاہئے‘ اسمبلی میں بھی ایسے ارکان موجود ہیں جن کی پیدائش دائیوں کے ذریعے ہوئی ‘ انہوں نے حقائق کا جائزہ لینے کیلئے ارکان اسمبلی کی کمیٹی بنانے کا بھی مطالبہ کیا‘ حکومتی ارکان نے کہا کہ تھرکی صورتحال کے بارے میں غلط اعداد وشمار دیئے جارہے ہیں اور حقائقکے برعکس صورتحال کو پیش کیا جارہا ہے‘ مسلم لیگ فنکشنل کے سعید نظامانی نے کہا کہ 29دنوں میں130 بچے تھر میں ہلاک ہوگئے ہیں‘ ایم کیو ایم کے پونجومل نے کہا کہ اگر تھر میں صحت کی سہولتیں ہوتیں تو مریضوں کو حیدر آباد اور ٹھٹھہ کے اسپتالوں میں کیوں بھیجا جاتا‘ جنریٹر کی مرمتی حکومت کے لوگوں نے50 لاکھ روپے حاصل کئے لیکن جنریٹرز نہیں خریدے گئے‘ مسلم لیگ فنکشنل کے رکن امیتاز احمد نے کہا کہ اگر حکومت سندھ تھر کے معاملات نہیں سنبھال سکتی تو بین الاقوامی اداروں سے مدد لے‘ تحریک انصاف کے رکن خرم شیر زمان نے کہا کہ سب سے زیادہ ناکامی بنیادی صحت کے معاملے میں ہے جسے ایڈ ہاک کی بنیاد پر چلایا جارہا ہے‘ ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے کہا کہ تھر کے حوالے سے کبھی ایسی رپورٹ نہیں آئی کہ آکسیجن نہ ہونے کی وجہ سے کسی کی موت ہوئی ہو‘ مسلم لیگنکشنل کی مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ تھر پر بحث کے دوران وزیراعلیٰ سندھ اور افسران ایوان میں نہیں ہیں اس سے حکومت کی سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے‘ ایم کیو ایم کے رکن رئوف صدیقی نے کہا کہ تھر کے علاقوں میں ڈاکٹرز کی حاضر ی کو یقینی بنانا اور غذائی قلتکے خاتمے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے‘ بحث جاری تھی کہ اسپیکر نے اجلاس پیر یکم فروری تک ملتوی کردیا پیر کو بھی بحث جاری رہے گی۔

عوامی مسائل حل کیے جائیں، بلاول کی وزیراعلیٰ کو ہدایت
ملاقات میں تھر کی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں اور مختلف شعبوں میں حکومتی کارکردگی پر تبادلہ خیال
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ سے کہا ہے کہ پورے صوبے میں خصوصاً تھر، کوہستان اور کاچھو جیسے پسماندہ علاقوں میں خواتین اور بچوں میں خوراک کی کمی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ـ’’ نیوٹریشن مہم‘‘ شروع کی جائے، بلاول بھٹو زرداری نے ان خیالات کا اظہار آج بلاول ہائوس میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے ملاقات کے دوران کیا،۔وزیر اعلیٰ سندھ نے بلاول بھٹو زرداری کو صوبے میں امن وامان کی مجموعی صورت حال ، تھر کی صورت حال ، صوبے میں جاری ترقیاتی امور سمیت سندھ حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ۔ بلاول بھٹو زداری نے کہا کہ جتنا جلد ہو سکے تمام صوبائی محکموں کو ای-گورننس پر منتقل کیا جائے، انہوں نے زور دیا کہ صحت اور تعلیم کے محکموں کی بہتر کارکردگی کو مزید مستحکم اور وسیع کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعلیٰ سندھ کو ہدایت کی کہ تھر کے عوام کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی کوششوں کو تیز کیا جائے اور اسپتالوں کو مزید سہولیات سے آراستہ کیا جائے ۔ وزیر اعلیٰ کو صوبوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام تیز کرنے بلدیاتی اداروں کے چیئرمینوں اور وائس چیئرمینوں کے لیے پارٹی کے امیدواروں کے ناموں پر بھی غور کیا گیا ۔