عزیر بلوچ نے خالد شہنشاہ سمیت400افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا

February 1, 2016 3:29 pm0 commentsViews: 75

پیپلز پارٹی کے رہنمازمینوں پر قبضے اور ٹارگٹ کلنگ کے لئے مدد طلب کرتے تھے ،لیاری گینگ وار کے کارندے وارداتوں کیلئے پولیس کی گاڑیاں استعمال کرتے تھے
لیاری اور حب کے مختلف علاقوں میں ٹارچر سیل بھی قائم کررکھے تھے، لیاری کے تمام بلڈرز سہولت کار تھے، تفتیش کے دوران عزیر بلوچ کے انکشافات
کراچی( نیوز ایجنسیاں) لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ نے بے نظیر قتل کیس کے گواہ پیپلز پارٹی کے رہنما خالد شہنشاہ، ارشد پپو، پاکستان اسٹیل کے سابق چیئر مین سجاد حسین شاہ سمیت400 افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ جبکہ سیاسی شخصیات سے براہ راست رابطوں اور ان کیلئے غیر قانونی کام کرنے سمیت دیگر سنگین جرائم اور امن کمٹی کے کارندوں کو نیٹو کا اسلحہ فراہم کرنے کے حوالے سے مزید سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں تفصیلات کے مطابق لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ سے دوران حراست سیاسی شخصیات سے براہ راست رابطے اور ان کے لئے غیر قانونی کام کرنے سمیت دیگر جرائم سے متعلق قائم مقدمات کے بارے میں بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔ ملزم کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنما زمینوں پر قبضے، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم کیلئے اس سے مد طلب کرتے تھے کہ آدمی بھیجو، عذیر بلوچ نے کئی اہم رازوں سے پر دہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ لیاری کے علاقے گھاس منڈی میں چلنے والے جوئے کے اڈے سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک بڑا حصہ پولیس افسران اور حکومتی شخصیات کو بھی جاتا تھا۔ جبکہ لیاری گینگ وار کے کارندے وارداتوں کیلئے پولیس کی گاڑیاں بھی استعمال کرتے تھے۔ اس نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے نثار مورائی اور قادر پٹیل بھی فشریز ملازمین کو ڈرامے دھمکانے اور بھتہ وصولی کیلئے استعمال کرتے تھے۔ اس کے علاوہ عذیر بلوچ نے لیاری میں کالعدم تنظیموں کے کارندوں کو پیسوں کے عوض پناہ دینے کا بھی اعتراف کیا۔ ملزم نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے جیل ہی سے لیاری کا سردار بنا دینے کا وعدہ کرلیا تھا۔ عذیر بلوچ نے یہ بھی بتایا کہ لیاری اور حب کے مختلف علاقوں میں ٹارچر سیل بھی قائم کر رکھے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ نے ابتدائی تفتیش کے دوران بتایا کہ رحمن ڈکیت نے جو لیاری امن کمیٹی قائم کی تھی اس نے ایک سابق وزیر داخلہ کے کہنے پر اس کا نام پیپلز امن کمیٹی رکھ دیا تھا جبکہ اسی وزیر کے کہنے پر اس نے متعدد افراد کو قتل کیا اور اغواء کرکے بھتے بھی وصول کئے، ملزم نے انکشاف کیا کہ لیاری کے تمام بلڈرز اس کے سہولت کار ہیں جو اس کو رقم فراہم کرتے تھے جس سے وہ نہ صرف اسلحہ خریدتا تھا بلکہ رقم اپنے کارندوں میں بھی تقسیم کرتا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ عذیر بلوچ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ لسانی بنیاد پر اغواء کئے جانے والے مغویوں کی لاشیں کس کی گاڑی میں ٹھکانے لگائی جاتی تھیں۔