عذیر بلوچ کے انکشافات کے بعد پی پی رہنمائوں کے ملک سے فرار کا خدشہ

February 1, 2016 3:30 pm0 commentsViews: 38

لیاری گینگ وار کے سرغنہ کے سہولت کار رکن قومی اسمبلی، بلڈرز اور پولیس افسران سمیت اہم شخصیات کی گرفتاری کیلئے حکمت عملی طے کر لی گئی
سعید غنی، فریال تالپور، قادر پٹیل، ثانیہ بلوچ، جاوید ناگوری، نبیل گبول اور ذوالفقار مرزا کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے سیکورٹی اداروں نے وفاقی وزارت داخلہ سے رابطہ کر لیا ہے، رہنما عرب امارات فرار ہو سکتے ہیں، ذرائع
عذیر بلوچ کے ساتھیوں فیصل پٹھان اور وصی اللہ لاکھو کی گرفتاری کیلئے بھی چھاپے تیز کر دیے گئے، لیاری میں سرچ آپریشن کے د وران7 افراد کو حراست میں لے لیا گیا، عذیر کی سیاسی ملاقاتوں کا ریکارڈ بھی جمع کیا جا رہا ہے
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک/ کرائم رپورٹر) لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کے انکشافات کے بعد پیپلز پارٹی کے اہم رہنمائوں کے ملک سے فرار کا خدشہ پیدا ہوگیا سیکورٹی اداروں نے فرار روکنے کیلئے تیاریاں شروع کر دیں۔ جبکہ عذیر بلوچ کے سہولت کار رکن قومی اسمبلی لیاری کے بلڈرز پولیس افسران سمیت دیگر اہم شخصیات کی گرفتاری کیلئے حکمت عملی طے کر لی گئی جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے وفاقی وزارت داخلہ سے رابطہ کیا گیا علاوہ ازیں عذیر بلوچ کے انکشافات کے بعد اس کے2 سرگرم کمانڈو فیصل پٹھان او وصی اللہ لاکھو کی گرفتاری کیلئے چھاپوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ مذکورہ کمانڈوز عذیر بلوچ کے قریبی ساتھی ہیں اور بھتہ وصولی کے علاوہ دیگر غیر قانونی کاموں کی سرپرستی کر رہے تھے۔ گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کی گرفتاری اور نوے روز کیلئے رینجرز کو حوالگی کے بعد لیاری میں سرچ آپریشن کے دوران7افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری لیاری کے مختلف علاقوں میں پہنچی اور گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کیا۔ سرچ آپریشن لیاری کے علاقوں جہان آباد، شیر شاہ کباڑی مارکیٹ اور اطراف کے علاقوں میں کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن جرائم پیشہ عناصر اور گینگ وار کے کارندوں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا، ذرائع کے مطابق ذرائع کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔ جبکہ عذیر بلوچ کے انکشافات کے بعد اس کے سہولت کار جس میں پولیس افسران و اہلکار، رکن اسمبلی، بلڈرز اور دیگر اہم لوگوں کی گرفتاری متوقع ہے۔ تفتیشی اداروں نے عذیر بلوچ کی سیاسی ملاقاتوں کا ریکارڈ حاصل کرنا شروع کر دیا ہے۔ لیاری گینگ وار کے سربراہ عذیر جان بلوچ سے سندھ کی اہم شخصیات نے ملاقات کیوں کی۔ کن کن سیاسی رہنمائوں سے ملاقاتیں کی۔ ان ملاقاتوں کی وجوہ کیا تھیں۔ تفتیشی اداروں نے اب تمام ریکارڈ حاصل کرنا شروع دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عذیر بلوچ کے بیان کی روشنی میں سندھ کی اہم شخصیات سے بھی تفتیش کا امکان ہے۔ دوسری طرف لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کے پیپلز پارٹی رہنمائوں کے حوالے سے اہم انکشافات کے بعد تحقیقاتی ادارو ںنے پیپلز پارٹی کے رہنمائوں سمیت 7 شخصیات کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے وفاقی وزارت داخلہ سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ ایئر پورٹ پر انٹیلی جنس سخت کر دی گئی ہے۔ تحقیقات اداروں کو ایسی اطلاعات ہیں کہ عذیر بلوچ سے قریبی روابط رکھنے والے پی پی رہنما متحدہ عرب امارات فرار ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں بھی پیپلز پارٹی کے بعض رہنما اپنی گرفتاری سے بچنے کیلئے دبئی فرار ہو چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کو عذیر جان بلوچ کی گرفتاری سے آگاہ کرنے سے قبل کراچی ایئر پورٹ پر انٹیلی جنس نیٹ ورک کو فعال کر دیا گیا اور انٹیلی جنس اداروں کو ہدایت کی گئی کہ اگر پیپلز پارٹی کا کوئی رہنما بیرون ملک سفر کرنے کیلئے ایئر پورٹ آئے تو اس کے حوالے سے پوچھ لیا جائے کہ انہیں بیرون ملک سفر کی اجازت ہے یا نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عذیر جان بلوچ کی گرفتاری کے ساتھ ہی اس کی سرپرستی کرنے والے پیپلز پارٹی کے رہنما قادر پٹیل، ثانیہ بلوچ، جاوید ناگوری، سعید غنی، فریال تالپور، نبیل گبول، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے نام سامنے آنے لگے۔ جب کہ عذیر بلوچ کی جانب سے تحقیقاتی اداروں کومذکورہ رہنمائوں کے حوالے سے بعض اہم معلومات بھی فراہم کر دی گئیں۔ جس کے بعد یہ امکانات بڑھ گئے ہیں کہ مذکورہ رہنما متحدہ عرب امارات فرا رہو سکتے ہیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ تحقیقاتی ادارے مشاورت کے بعد آئندہ 24 گھنٹے میں وفاقی حکومت کو پیپلز پارٹی رہنمائوں سمیت 7 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے با قاعدہ خط لکھیں گے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ جب تک مذکورہ رہنما ئوں کے نام ای سی ایل میں ڈالے نہیں جاتے انہیں ایئر پورٹ پر ہی روک کر واپس کیا جا سکتا ہے۔